.

علم دشمن یمنی باغیوں نے 1700 اسکول تباہ کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی باغیوں اور ان کے حلیف سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا نے مارچ 2015ء کے بعد سے اب تک ملک میں بغاوت کی آڑ میں 1700 اسکول تباہ کردیے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے’سبا‘ کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں باغیوں کے ہاتھوں اسکولوں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے یمنی وزیر تعلیم عبداللہ الملس نے کل منگل کو یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں عالمی ادارہ اطفال کے ڈائریکٹر سیف الدین نمر سے بھی ملاقات میں بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ پندرہ سال کے دوران عالمی بنک، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے تعاون سے یمن میں 2000 اسکول قائم کیے گئے تھے مگر باغیوں نے صرف دو سال کے عرصے میں انہیں تباہ و برباد کردیا ہے۔

یمنی وزیر تعلیم نے بتایا کہ باغیوں کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقوں میں شاہ سلمان ریلیف سینٹر اوراماراتی ہلال احمر کے تعاون سے اسکولوں کی تعمیر نو اور مرمت کا کام جاری ہے۔

عبداللہ الملس کا کہنا ہے کہ حوثی اور علی صالح ملیشیا نے نہ صرف اسکولوں کی عمارتیں اور شعبہ تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیا ہے بلکہ اپنی مرضی کا نصاب تعلیم مسلط کرنے کی بھی پوری کوشش کی گئی ہے۔ اسکولوں کی عمارتوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے انہیں فوجی بیرکوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

اس کی تازہ مثال مشرقی صنعاء میں نھم ڈاریکٹوریٹ میں بنی عامر اسکول کی بندش سے لی جاسکتی ہے جسے حال ہی میں بند کرنے کے بعد فوجی کیمپ میں تبدیل کیا گیا اور اس اسکول میں زیرتعلیم اڑھائی سو بچوں کو جبری طور پر ملیشیا میں بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی۔

گذشتہ برس دسمبر میں حوثی ملیشیا نے عمران گورنری میں زوجعمان کے مقام پر واقع ارکان اسکول کو بند کرتے ہوئے اس کے عملے اور طلباء کو زبردستی باغی ملیشیا میں بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اسکول کی انتظامیہ نے باغیوں کی کوشش مسترد کرتے ہوئے تدریسی سلسلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

گذشتہ دسمبر میں یمنی باغیوں نے ذمار گورنری کے الحدا ڈاریکٹوریٹ میں قائم المحفد اسکول پر دھاوا بولا اور اسکول کی انتظامیہ اور طلباء کو زدو کوب کرنے کے بعد اسکول بند کردیا تھا۔مسلح باغیوں کی جانب سے اسکول کے طلباء سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکا اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائیں۔

حال ہی میں سامنے آنے والے اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں 25 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں۔