.

ٹرمپ کے انوکھے دستخط سے اُن کی شخصیت جانیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ایک دل چسپ وڈیو گردش میں آ رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاغذات پر کس طرح دستخط کرتے ہیں اور ٹرمپ کے طویل اور منفرد دستخط بھی دکھائے گئے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ" slate" نے نئے امریکی صدر کے دستخط سے متعلق ایک پُر مزاح رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ امریکی صحافت کی بعض مشہور شخصیات اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں نے ان دستخط کو زلزلے کی پیمائش کرنے والے ریکٹر اسکیل کے اشاریے سے تشبیہہ دی ہے۔

بعض تبصروں میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط دیکھنے میں دل کے ECG سے ملتے جلتے ہیں جب کہ بعض نے ازراہ تفنن یہ کہہ ڈالا کہ ٹرمپ اپنے دستخط میں بہت سی کیلیں بناتے ہیں جن کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں پایا جاتا اور زیادہ تر حروف کو ایک دوسرے سے علاحدہ پہچانا نہیں جا سکتا ہے۔

"درحقیقت ٹرمپ نہیں "

ٹوئیٹر پر ایک شخص نے دل لگی کرتے ہوئے ٹرمپ کے دستخط کو شیطانوں کی جانب سے آنے والی صوتی لہریں قرار دیا۔ ایک دوسرے شخص کے مطابق یہ دستخط چِلّا کر مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور "ڈونلڈ ٹرمپ" ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ ان کا اصلی نام AuuuUUuuuuuA ہے۔

امریکا کے نئے صدر کے دستخط نے لکھائی کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے اس لیے کہ یہ اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ با اثر دستخط ہیں۔

ضدّی اور مشکل مذاکرات کار

برطانوی اخبار " Independent "کے مطابق لکھائی کے تجزیہ کاروں نے دستخط کے ذریعے ٹرمپ کی شخصِت کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے باور کرایا ہے کہ وہ اقتدار کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔

ایک برطانوی انسٹی ٹیوٹ میں لکھائی کی تجزیہ کار ٹریسی ٹروسل کے مطابق ٹرمپ کے دستخط میں بڑی لکھائی اُن کے پُر عزم ، متحرک ، بے خوف ، ضدی اور ایک مشکل مذاکرات کار ہونے کا پتہ دیتی ہے۔

امریکا میں 1933 سے 1945 تک کرسی صدارت پر براجمان رہنے والے فرینکلن روزویلٹ کے دور میں ایک پروٹوکول مقرر کیا گیا تھا۔ اس پرٹوکول کے مطابق امریکی صدر اہم قوانین یا ویٹو پر دستخط کے لیے متعدد قلم استعمال کریں گے۔ اس طرح یہ قلم امریکا کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بن گیا۔

امریکی نیوز نیٹ ورک"CNN" کے مطابق امریکی صدر کے استعمال میں آنے والے قلم امریکی ریاست "روڈ آئی لینڈ" کے قدیم کارخانوں میں تیار کیے جاتے ہیں۔