یمن: معزول صدر علی صالح کا بیٹا منی لانڈرنگ میں ملوث

منی لانڈرنگ میں سابق صدر بیٹے کے سہولت کار رہے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے خاندان کو حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد اب منی لانڈرنگ جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کی یمن میں پابندیوں کی نگران کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کا بیٹا منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے اور خود علی صالح منی لانڈرنگ کے دھندے میں بیٹے کے سہولت کار رہے ہیں۔ انھوں نے بیٹے کو منی لانڈرنگ کے لیے اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

رپورٹ میں یمن میں باغیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہےاور کہا گیا ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے تیس سالہ دور اقتدار میں اپنی حکومت کو مضبوط اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ان کے اقدامات سے یمن نہ صرف مالی طور پر کم زور ہوا بلکہ بدنظمی کا شکار رہا۔

اقوام متحدہ کی ماضی میں سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی علی صالح کے ناجائز منافع کمانے اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بات کے ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں کہ خالد صالح مشکوک انداز میں بھاری رقوم اپنے والد اور بھائی احمد کے نام پر بیرون ملک منتقل کرتا رہا ہے۔ سنہ 2015ء میں سلامتی کونسل نے خالد صالح کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس پر اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں۔

اس رپورٹ میں یمن میں جاری بغاوت کے دوران علی صالح اور حوثی ملیشیا کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پالیوں اور ایران سے غیرقانونی طور پر اسلحہ حاصل کرنے کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں