.

'احمدی نژاد نے سعودی عرب سے معاہدوں پر پانی پھیر دیا'

رفسنجانی کی وفات کے بعد ان کے مشیر کا خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو ہفتے قبل انتقال کرنے والے ایران کے سابق صدر اور مصالحتی کونسل کے سابق چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے مشیر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہاشمی رفسنجانی نے الزام عاید کیا تھا کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ناکام بناتے ہوئے دونوں ملکوں کےدرمیان مفاہمت کی کوششیں ناکام بنائی تھیں۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے مشیر غلام علی رجائی کا انٹرویو ’جماران‘ نامی ایک فارسی نیوز ویب پورٹل نے 24 جنوری کو شائع کیا۔

غلام علی رجائی نے اپنے انٹرویو میں متوفی صدر ہاشمی رفسنجانی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کا ذمہ دار سپریم لیڈر کے چہتے سابق صدر احمدی نژاد پرعاید کیا تھا۔

غلام علی رجائی نے کہا کہ سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی نے کہا تھا کہ وہ ایران اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں کرتے رہیں مگر رہ بر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب خاص احمدی نژاد نے ان کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان قربت میں رکاوٹیں پیدا کی۔

رجائی کے بہ قول رفسنجانی نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں سعودی عرب کے دورے سے بہت سی امیدیں لے کر واپس آیا مگر محمود احمدی نژاد نے تمام معاہدوں اور کوششوں پر پانی پھیر دیا۔

شیعہ اقلیت

ایک سوال کے جواب میں غلام علی رجائی نے کہا کہ سابق ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے کہ اہل تشیع ملک کے پیروکار اہل سنت کی مقابلے میں پوری دنیا میں تعداد میں کم ہیں۔ وہ دنیا بھر میں شیعہ اقلیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان مشترکات پر اتفاق رائے کی تلاش میں رہے۔ وہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے کوششیں کرتے رہے۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اہل تشیع اور اہل سنت کو بھائی بھائی قرار دیتے اور مسلکی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی سعودی عرب دورے کی دعوت قبول کی۔ وہ بار بار کہا کرتے کہ ہم نے شاہ عبداللہ کے ساتھ بہت سے معاہدوں سے اتفاق کیا ہے۔ عالم اسلام بالخصوص بیت المقدس، لبنان، عراق اور دنیا کے دوسرے خطوں کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام سے بھی اتفاق کیا مگراحمدی نژاد نے ہماری تمام مساعی کو تباہ کردیا۔

رفسنجانی کا دورہ سعودی عرب

کئی سال قبل جب علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو شاہ عبداللہ سے نلاقات کے وقت ایران میں متعین سعودی عرب کے آخری سفیر عبدالرحمان بن غرمان الشھری بھی موجود تھے۔ وہ شاہ عبداللہ اور رفسنجانی کے درمیان ہونے والی ملاقات اور دونوں رہ نماؤں میں طے پانے والے معاہدوں کے چشم دید گواہ ہیں۔

رفسجانی کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی قیادت سے ملاقات کے بعد اہل سنت اور اہل تشیع کے علماء کا ایک مشترکہ بورڈ تشکیل دینے کے پروگرام سے اتفاق کیا گیا تھا۔ مشترکہ علماء کونسل کے قیام کا مقصد دونوں مسالک کے درمیان پائے جانے والے مذہبی اختلافات کو ختم کرنا تھا۔ مشترکہ علماء بورڈ کے پروگرام پرسنجیدگی سے عمل درآمد کیا جاتا تو دونوں مسالک میں ایک دوسرے کے خلاف انتہا پسندانہ، متعصبانہ اور منافرت پھیلانے والے جذبات کو ٹھنڈا کیا جاسکتا تھا۔ اس سے عالم اسلام میں خود کش حملوں، فرقہ پرستی اور مسلکی تنازعات کے حل میں کافی حد تک مدد ملتی۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے’ایرنا‘ کے مطابق ایران میں سعودی عرب کے سابق سفیر عبدالرحمان الشھری نے ہاشمی رفسنجانی کو دوبارہ سعودی عرب دورے کی دعوت پیش کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق رفسنجانی کے سعودی عرب کے سابقہ دوروں نے دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات کوبہتر بنانے اور خطے میں قیام امن کی کوششوں میں کافی حد تک مدد کی تھی۔

رفسنجانی دوبارہ سعودیہ کیوں نہ آسکے

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے دوبارہ سعودی عرب کا دورہ نہ کرنے کی وجوبات پر بات کرتے ہوئے ان کے مشیر غلام علی رجائی نے کہا کہ ’میں نے ان کے ساتھ مشیر کے طور کام کرنے سے قبل ایک تفصیلی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران میں نے ان سے کہا تھا کہ اپ کے دل میں سعودی عرب کا ایک خاص مقام ہے۔ آپ تہران اور ریاض کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیوں نہیں کرتے؟۔ اس پرانہوں نے جواب دیا کہ میں نے چند سال قبل سعودی عرب کا دورہ کیا اور شاہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔ ہم کئی معاہدوں پر متفق ہوگئے تھے اور میں سعودی عرب سے بھرپور امیدیں لے کر واپس آیا تھا مگر احمدی نژاد نے ہماری تمام کوششوں کو رائیگاں کردیا۔

’سعودی عرب سے تعلقات حد درجہ ضروری‘

رفسنجانی کے مشیر نے انٹرویو میں سعودی عرب سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران اور سعودیہ کےدرمیان علاقائی مسائل پر متضاد آرا پائی جاتی ہیں مگر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات دور کرتے ہوئے تعلقات کی بحالی حد درجہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلقات کی بحالی خطے کے مسائل کے حل میں دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتی ہے۔ رفسنجانی سے سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی توقعات تھیں اور وہ آخری سانس تک اس کے لیے پرامید بھی رہے۔ وہ جب ایران کے صدر تھے تب بھی انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کوبہتر بنانے کے اقدامات کئے مگر بدقسمتی سے بعد میں آنے والے ایرانی صدور نے رفسنجانی کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔