اقوام متحدہ ایلچی کا یمن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے مختلف عرب دارالحکومتوں کے حالیہ دورے کے بعد سلامتی کونسل کو یمن کی تازہ صورت حال اور بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے بارے میں بریف کیا ہے۔

جمعرات کے روز بریفنگ کے دوران میں عالمی ایلچی نے بحران کے حل کے لیے مختلف سفارشات پیش کی ہیں اور یمنی فریقوں سے ملک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ملک کے تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی کی جائے اور اس سلسلے میں طویل المیعاد جنگ بندی سمجھوتے کا دو ہفتوں کے اندر اعلان کیا جائے۔

صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 9 اگست سے عرب اتحادی فوجوں کی جانب سے عاید کردہ فضائی پابندی ختم کی جائے۔بحران کے حل کے لیے پیش کردہ نقشہ راہ کی حمایت کی جائے اور اس کے تحت ملک کے ایک نائب صدر کا تقرر کیا جائے۔

حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سے نکل جائے اور اپنے درمیانے اور بھاری ہتھیار حوالے کردے۔انھوں نے حال ہی میں صنعا کے دورے کے موقع پر''انصاراللہ ( حوثی ملیشیا) اور جنرل پیپلز کانگریس ( سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت) پر زوردیا کہ وہ ملک میں سکیورٹی ،شہروں سے انخلاء اور درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کو حوالے کرنے کے لیے ایک واضح منصوبہ پیش کریں''۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ منصوبہ جامع امن سمجھوتے کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ اسی سمجھوتے پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں