.

اقوام متحدہ ایلچی کا یمن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے مختلف عرب دارالحکومتوں کے حالیہ دورے کے بعد سلامتی کونسل کو یمن کی تازہ صورت حال اور بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے بارے میں بریف کیا ہے۔

جمعرات کے روز بریفنگ کے دوران میں عالمی ایلچی نے بحران کے حل کے لیے مختلف سفارشات پیش کی ہیں اور یمنی فریقوں سے ملک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ ملک کے تمام علاقوں میں فوری جنگ بندی کی جائے اور اس سلسلے میں طویل المیعاد جنگ بندی سمجھوتے کا دو ہفتوں کے اندر اعلان کیا جائے۔

صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 9 اگست سے عرب اتحادی فوجوں کی جانب سے عاید کردہ فضائی پابندی ختم کی جائے۔بحران کے حل کے لیے پیش کردہ نقشہ راہ کی حمایت کی جائے اور اس کے تحت ملک کے ایک نائب صدر کا تقرر کیا جائے۔

حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سے نکل جائے اور اپنے درمیانے اور بھاری ہتھیار حوالے کردے۔انھوں نے حال ہی میں صنعا کے دورے کے موقع پر''انصاراللہ ( حوثی ملیشیا) اور جنرل پیپلز کانگریس ( سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت) پر زوردیا کہ وہ ملک میں سکیورٹی ،شہروں سے انخلاء اور درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کو حوالے کرنے کے لیے ایک واضح منصوبہ پیش کریں''۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ منصوبہ جامع امن سمجھوتے کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ اسی سمجھوتے پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہے۔