.

ایران کا طرزعمل مثبت ،تعاون کو تیار ہے : کویت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے نائب وزیر خارجہ خالد الجاراللہ نے کہا ہے کہ ''ہمیں ایران کی طرف سے ایک مثبت رویہ دیکھنے کو ملا ہے اور وہ تعاون کو تیار ہے''۔

انھوں نے یہ بات کویتی وزیر خارجہ صباح خالد الحمد الصباح کی ایرانی صدر حسن روحانی سے تہران میں ملاقات کے ایک روز بعد کہی ہے۔کویتی وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کو خلیج تعاون کونسل کا ایک پیغام پہنچایا ہے۔

خالد الجاراللہ نے کہا کہ ''اس پیغام اور اس کے مواد میں خلیجی امور میں عدم مداخلت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت خلیجی ریاستوں کی خود مختاری کے احترام پر مبنی ایک مشترکہ ڈائیلاگ تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ ایرانی رجیم اور خلیج کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے مثبت اقدام کریں گے''۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی ہے کہ مستقبل میں بات چیت کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے اور جی سی سی کا پیغام یہ تھا کہ مستقبل میں ڈائیلاگ کے لیے کوئی اتفاق رائے ہونا چاہیے۔

کویت کے نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ''ہم ایران اور خلیج کے درمیان کسی نمایاں پیش رفت کے لیے ایک اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے۔اس سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کی راہ ہموار ہوگی''۔

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور سعودی عرب اور بحرین میں ایرانی سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے سے متعلق جاراللہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کچھ کہنا اور ایسے ایشوز پر بات کرنا قبل ازوقت ہے۔

انھوں نے کہا:'' اول ہمیں باہمی تعلقات اور خصوصی ضمانتوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔پیغام بڑا جامع تھا اور اس میں ایران اور کسی ایک خلیجی ملک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی تھی''۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ امریکا کی سابق انتظامیہ بھی اس طرح کے مذاکرات کی حمایت کرتی رہی ہے''۔