.

ترکی : داعش اور جبہۃ فتح الشام دہشت گرد تنظیمیں قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ کے ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ترکی داعش اور جبہۃ النصرہ جو اب جبہۃ فتح الشام (جفش) کے نام سے جانی جاتی ہے دونوں تنظیموں کو دہشت گرد جماعت شمار کرتا ہے۔

جفش کی جانب سے منگل کے روز شام کے شمال مغرب میں جیشِ حُر میں شامل متعدد گروپوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تنظیم نے ترکی کے حمایت یافتہ معتدل اپوزیشن گروپوں پر کاری ضرب لگانے اور روس کے زیر سرپرستی امن بات چیت کو معطل کرانے کی دھمکی دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکی کو اس بات کا کوئی علم نہیں ہے کہ آیا روس نے رواں ہفتے آستانہ میں ہونے والی امن بات چیت کے دوران کسی آئین کا مسودہ پیش کیا جس میں شام کے کردوں کو خود مختاری دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین مفتی اوگلو نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ انقرہ کو شام میں سیف زون کے قیام کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد کے نتائج کا انتظار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کافی عرصے سے اس طرح کے علاقوں کے قیام کی تائید کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے کل (بدھ) کے روز کہا تھا کہ وہ یقینا تشدد سے فرار اختیار کرنے والوں کے واسطے شام میں سیف زونز کا قیام عمل میں لائیں گے۔ توقع ہے کہ ترمپ آنے والے دنوں میں امریکی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کو اس حوالے سے احکامات جاری کریں گے۔

مفتی اوگلو کے مطابق ترکی اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔