.

روس کے مجوّزہ شامی آئین سے "عرب" تشخص غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے بدھ کے روز بتایا کہ ان کے ملک نے روسی ماہرین کے ہاتھوں شام کے لیے آئین کا جو مسودہ تیار کرایا ہے وہ شامی حکومت ، شامی اپوزیشن اور خطے کے ممالک کی تجاویز کے بعد سامنے آیا ہے۔

لاؤروف نے خطے کے ان ممالک کا نام نہیں بتایا جو شام کے آئین میں تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کون سی شامی اپوزیشن ہے جس نے اس آئین کے لیے دیگر شقیں تجویز کی ہیں۔ واضح رہے کہ شامی مذاکرات کی سپریم کمیٹی ، اس کے اتحادیوں اور زمینی لڑائی میں شامل بقیہ شامی گروپوں کا اس آئین کے مسودے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ عناصر شامی عوام کی مرضی کے بغیر تیار کیے جانے والے کسی بھی آئین کو مسترد کر دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔

شام کے لیے روس کے تیار کردہ آئین کا پہلا مسودہ گزشتہ برس منظر عام پر آیا تھا۔ اس میں شامی ریاست کے نام میں "عرب" کا وصف نکال دیا گیا تھا تاکہ ریاست کا نام شامی عرب جمہوریہ کے بجائے "شامی جمہوریہ" ہو جائے۔ یہاں پر خطے کے اُن ممالک کا کردار نمایاں ہوتا ہے جن کی جانب لاؤروف نے بدھ کے روز اشارہ کیا تھا۔ بالخصوص ایران جو کہ واحد ملک ہے جس کی شامی ریاست کے نام سے لفظِ عرب نکال دینے میں براہ راست مصلحت وابستہ ہے۔

سابقہ مسودے میں ریاست کے صدر کے مذہب سے متعلق شق بھی ختم کر دی گئی تھی۔ اسی طرح قانون سازی کے لیے اسلام کے بنیادی مآخذ ہونے سے متعلق شق بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔ ان کے علاوہ جمہوریہ کے صدر اور دیگر حکام کی جانب سے منصب سنبھالتے وقت اٹھائے جانے والے حلف کی عبارت سے لفظ "الجلالۃ" بھی ختم کیا گیا۔ اس طرح نئے آئین کے مطابق حلف کا جُملہ " میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں" کے بدلے " میں قسم اٹھاتا ہوں" رہ گیا۔

شام کے لیے روسی آئین کے مسودے میں صدارت کے لیے نامزدگی کی شرائط سے متعلق ایک شق بھی ختم کی گئی۔ اس شق کے مطابق امیدوار کے والدین بچپن سے ہی شام کی شہریت کے حامل ہوں جیسا کہ موجودہ آئین میں موجود ہے۔ مجوزہ مسودے میں محض اس شرط پر اکتفا کیا گیا ہے کہ نامزد امیدوار کی عمر چالیس برس ہو چکی ہو۔

شامی ریاست کے نام سے "عرب" کی صفت نکال دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجوزہ آئین کی تیاری میں ایرانی ہاتھ بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد شام کو اپنے عرب اطراف سے علاحدہ کر دینا اور اسے عرب ممالک کی تنظیم (عرب لیگ) سے خارج کروانا ہے۔

رواں ماہ کی 24 تاریخ کو آستانہ مذاکرات میں شامل روسی وفد کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے آستانہ میں موجود شامی اپوزیشن کو روس کی جانب سے تیار کردہ شامی آئین کے مسودے کی کاپی حوالے کر دی ہے۔ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے میڈیا نے 24 مئی 2016 کو اس آئین کی اہم شقوں کا انکشاف کیا تھا۔

روسی میڈیا نے بدھ کے روز اپنی رپورٹوں میں بتایا تھا کہ روسی سیاسی شخصیات ، اکیڈمکس اور کارکنان نے صدر ولادیمر پوتن کو تجویز پیش کی ہے کہ شام اور روس کے درمیان ایک کنفیڈریشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تاہم پوتن نے ابھی تک اس تجویز پر اپنا جواب ارسال نہیں کیا ہے۔