’صدارتی اختیارات‘ کا بل منظوری کے لیےایردوان کے پاس

بل کی منظوری کے بعد صدر کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ صدر کو زیادہ با اختیار بنانے سے متعلق گذشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والےترمیمی بل کو ریفرنڈم کے لیے پیش کرنے سے قبل منظوری کے لیے صدر طیب ایردوان کو بھیج دیا گیا ہے۔ صدر کی جانب سے منظوری کے بعد اس بل پر آئندہ موسم بہار میں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی کےسرکاری ٹی پر نشر کیے گئےایک بیان میں بن علی یلدرم نے کہا کہ صدارتی اختیارات سے متعلق ترمیمی بل صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

صدر طیب ایردوان ان دنوں مشرقی افریقا کے دورے پر ہیں۔ صدر کو با اختیار بنانے سے متعلق بل پر دستخط کے لیے ان کے پاس ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ صدر کی منظوری کےبعد اس پر ریفرنڈم کرایا جائے گا اور اس کے بعد اسے نافذ العمل کردیا جائے گا۔

وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ صدارتی بل پرریفرنڈم کی تاریخ کا اعلان رواں ہفتے سپریم الیکشن کمیشن کی جانب سے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بالیقین بل پرریفرنڈم اپریل کے نصف اول یا 20 اپریل سے قبل قبل ہی ہوگا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترک پارلیمنٹ نے دوسری رائے شماری کے دوران 18 نکاتی ترمیمی بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت ترکی میں مروجہ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

نئے ترمیمی بل کی منظوری کے بعد صدر کو وزراء کو برطرف کرنے، صدارتی فرامین جاری کرنے اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرنے کے غیرمعمولی اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

ترک پارلیمنٹ میں صدر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کرنے کے اس بل کی منظوری میں حکمراں جماعت انصاف وترقی’آق‘ کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کی قومی تحریک کی بھی حمایت حاصل رہی ہے۔

صدر کو با اختیار بنانے کے بل کی منظوری کا طیب ایردوآن کو ذاتی طور پر فائدہ ہوگا اور وہ سنہ 2029ء تک اقتدار پر فائز رہ سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں