ٹرمپ ایرانیوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کیوں لگانا چاہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگانے کے احکامات صادر کررہے ہیں۔ امکان ہے کہ وہ جلد ہی ایک نیا فرمان جاری کریں گے جس میں ایرانی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر بھی پابندی کا اعلان کیا جائے گا۔

گذشتہ چار دھائیوں سے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں۔ البتہ 2014ء میں امریکا اور ایران کے درمیان تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام پر مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پایا جس کے بعد تہران اور واشنگٹن میں تناؤ میں کسی حد تک کمی آگئی تھی۔

اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانیوں کے امریکا میں داخلے کے ممکنہ فیصلے پر تہران کی طرف سے سرکاری سطح پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے دونوں ممالک کے درمیان ویزوں کی تاریخ پر ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔

ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے انقلاب سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ویزوں کے اٹھائے جانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ا مریکا کے سفر کے لیے ایرانیوں کو لا محالہ امریکا کا ویزہ حاصل کرنا لازمی تھا۔ مگر کئی یورپی ممالک بالخصوص فرانس اور برطانیہ کی طرف سے بغیر ویزے کے ایرانی پاسپورٹ کے حامل شہریوں کو داخلے کی اجازت تھی۔

ایران میں آیت اللہ خمینی کے برپا کردہ انقلاب کے بعد ایران کے عالمی سطح پر تعلقات میں بھی تبدیلی آئی۔ تمام یورپی ملکوں نے اپنے ہاں آنے کے خواہاں ایرانیوں کے لیے ویزے کا حصول لازمی قرار دیا۔

انقلاب کے بعد ایرانی طلباء کی بڑی تعداد نے تہران میں قائم امریکی سفارت خانے پر یلغار کی تو امریکیوں کے لیے ایرانیوں کو ویزے جاری کرنے میں بھی ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوئے تو ایرانیوں کو براہ راست امریکا کے سفرمیں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں دوسرے ممالک کے پاسپورٹس پرامریکا کے سفر کا سہارا لینا پڑتا۔ اس مقصد کے لیے متحدہ عرب امارات، ترکی، پاکستان اور لبنان کے پاسپورٹس پرایرانیوں کو امریکا کے ویزے جاری کیے جاتے۔

ایران میں انقلاب کے بعد ایک بڑا طبقہ ملاؤں کی حکومت کے زیرعتاب آیا تو انہوں نے امریکا میں پناہ کی تلاش شروع کی۔ ان میں اپوزیشن رہ نما، فن کار اور دوسرے شہری شامل تھے۔ چنانچہ امریکا نے ایسے ایرانیوں کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھول دیے اور آج امریکی ریاست لاس اینجلس میں ایرانی تارکین وطن کی بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔

دسمبر 2015ء کو سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بعد ایک نئے قانون پر دستخط کیے جس کے تحت ایرانی باشندوں کی امریکا میں داخلے پر مزید کڑی شرائط عاید کی گئی تھیں۔ اس قانون کے تحت صرف کئی دوسرے ممالک کے ان شہریوں کے امریکا میں داخلے پر قدغنیں عاید کی گئیں جو ایران کا دورہ کرچکے ہوں۔ ان میں عراق، سوڈان اور شام کے باشندے شامل تھے۔

امریکا میں منظور ہونے والے نئے قانون کے تحت ایسے 38 ملکوں میں رہنے والے ایرانی نژاد افراد کے امریکا میں داخلے کے لیے امریکی ویزہ لازمی قرار دیا جن کے دوسرے باشندوں کے لیے امریکی ویزے کا حصول لازمی نہیں ہے۔

امریکی کانگریس نے یہ قانون اس وقت منظور کیا جب ایران نے تین ارکان کانگریس کو تہران دورے کے لیے ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنے پیشرو براک اوباما کی نسبت زیادہ سخت رویہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے لیے جو اقدامات شروع کیے ہیں وہ ایرانی رجیم کے لیے خطے کے ممالک میں مداخلت پر تہران کو ایک تنبیہ ہے۔ ٹرمپ ایران کو بتانا چاہتے کہ ایران خطے میں جو کھیل کھیل رہا ہے وہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں