ڈونلڈ ٹرمپ کا موبائل وائیٹ ہاؤس کی سلامتی کے لیے خطرہ؟

صدر ٹرمپ اپنا ذاتی موبائل فون استعمال کرنے پر مُصِر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران موبائل فون اور مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ کے ذاتی اکاؤنٹ پر غیرمعمولی حد تک مصروف رہے۔ ان کے بہت سے متنازع بیانات کسی پریس کانفرنس یاباضابطہ انٹرویو سےقبل ’ٹوئٹر‘ کے ذریعے دنیا تک پہنچ جاتے جس کے بعد ان کی حمایت یا مخالفت میں ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوتی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی دستور پرصدر کا حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کا فون دونوں بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ وائیٹ ہاؤس میں داخل ہونے اور دنیای کی سپرپاور کی زمام کار ہاتھ میں لینے کے بعد بھی ان کی ’ٹوئٹر‘ کے استعمال کی عادت تبدیل نہیں ہوئی۔ وہ بدستور اپنا پرانا موبائل اور ٹوئٹراکاؤنٹ دونوں کو استعمال کررہے ہیں جس پرسیکیورٹی کے ذمہ داران کو کافی پریشانی اور تشویش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا موبائل فون گذشتہ 24 گھنٹوں میں مسلسل مصروف رہا ہے۔ فون کےساتھ ساتھ ٹرمپ کا پرانا انڈرویڈ فوج سیکیورٹی کے حوالے سے بے چینی کا موجب بنا ہوا ہے۔ ایک طرف وائیٹ ہاؤس میں سیکیورٹی کے مدارالمہام صدر ٹرمپ کے پرانے موبائل کی سیکیورٹی کے حوالے سے پریشان ہیں اور دوسری طرف ہیکروں کی لالیں ٹپک رہی ہیں جو بہرصورت ٹرمپ کے موبائل ڈیٹا اور حساس معلومات تک رسائی کے لیے اپنے طور پرنامعلوم کیا کیا سبیلیں تلاش کررہے ہوں گے۔

گوکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ موبائل کا استعمال فون سننے یا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ٹوئٹر پرٹویٹس بھیجنے کے لیے استعمال کریں گے مگر سیکیورٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا پرانا موبائل فون جسے صدر اپنے پاس رکھنے پرمصرہیں وائیٹ ہاؤس اور صدر دونوں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

1

امریکی ویب سائیٹ ’مدر بورڈ‘ کے مطابق اسمارٹ موبائل فون کی سیکیورٹی سےمتعلق سام سانگ کمپنی کے ایک عہدیدار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تجویز دی ہے کہ وہ کمپیوٹر یا موبائل فون کا استعمال روک دیں۔ اگر انہیں ایسے ڈیجیٹل آلات کا استعمال کرنا ہی ہے تو انہیں پہلے سیکیورٹی کے معیارات کے مطابق ڈھال لیں۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے والے عہدیدارنے بتایا کہ وہ سابق صدر باراک اوباما کے فون کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی تداربیر میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔

دیگر ماہرین بھی اصرار کے ساتھ یہ مشورہ دے رہیں کہ صدر ٹرمپ تسلی بخش سیکیورٹی کو یقینی بنائے جانے تک موبائل کا استعمال نہ کریں۔ اگر وہ سیکیورٹی کو یقینی بنائے جانے کے بغیر ایسا کرتے ہیں تو ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کا خفیہ کوٹ چوری کیا جاسکتا ہے۔ ان کے موبائل کے ذریعے ہیکر وائیٹ ہاؤس کے دوسرے سسٹم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

اخبار’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر اپنے صارفین سے انٹرنیٹ تک رسائی کا تقاضا کرتا ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی سے آپ کا موبائل یا کمپیوٹر سسٹم بہت سے سیکیورٹی خطرات کی زد میں آجاتا ہے۔ وائی فائی انٹرنیٹ کے استعمال سے صدر اور ایوان صدر کی اہم معلومات ہیک کی جاسکتی ہیں۔

4

اوباما کی پریشانی اور ہیلری کی ای میلز

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ذاتی موبائل کے استعمال پر اصرار انوکھا اور بچگانہ رویہ ہے، جب وہ خود بھی اپنی حریف شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو ان کے ای میل اسکینڈل کی بناء پر تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

سنہ 2009ء میں باراک اوما جب امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے بھی اپنا ذاتی موبائل فون کا استعمال جاری رکھنے پر اصرار کیا تھا۔ وہ پہلے صدر تھے جو اپنا ذاتی موبایل فون سرکاری مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے خواہاں تجے۔ اوباما کے اصرار پران کے اسمارٹ فون کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے موثر تدابیر کی گئیں جس کے بعد انہیں موبائل استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مارچ 2015ء کو صدر اوباما نے دعویٰ کیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بناء پروہ جدید اسمارٹ فون کے استعمال سے بھی محروم ہیں۔ وہ موبائل سے کسی کو پیغام ارسال نہیں کر سکتے حتیٰ کہ خود اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کبھی کبھار ہی ٹویٹس لکھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں