.

قاہرہ: 5 عراقیوں ،ایک یمنی کو نیویارک جانے سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی کے حکم پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے اور ہفتے کے روز قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پانچ عراقیوں اور ایک یمنی کو مصر کی قومی فضائی کمپنی کی پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

مصری ذرائع کے مطابق یہ تمام چھے مسافر نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی مصر ائیر کی پرواز 985 پر سوار ہونا چاہتے تھے اور ان کے پاس تارکین وطن کے لیے بالکل درست ویزے تھے۔

پانچ عراقی خودمختار علاقے شمالی کردستان کے دارالحکومت اربیل سے ٹرانزٹ پرواز کے ذریعے قاہرہ پہنچے تھے۔اب انھیں واپس بھیجے جانے تک ہوائی اڈے پر روک لیا گیا ہے۔یمنی شہری کہیں سے سیدھا قاہرہ کے ہوائی اڈے پر پہنچا تھا۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان مسافروں کو قبل ازیں امریکا کے مہاجر پروگرام کے تحت ویزا جاری کیا گیا تھا یا ان کے پاس کوئی اور ویزا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارماہ کے لیے تمام مہاجرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے اور شام سمیت سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے باشندوں کے داخلے پر بھی پابندی عاید لگا دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدارتی حکم کے تحت شام کے علاوہ ایران ،عراق ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور یمن سے تعلق رکھنے والے زائرین پر 90 روز کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

اس حکم کے اجرا سے قبل صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز پینٹاگان کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ '' میں ریڈیکل اسلامی دہشت گردوں کو امریکا سے باہر رکھنے کی غرض سے جانچ پرکھ کے لیے نئے اقدامات کررہا ہوں۔ میں انھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتا ہوں''۔