.

امریکی عدالت نے گرفتار مسافروں کی بے دخلی روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک میں ایک وفاقی عدالت کی خاتون جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس فیصلے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے جس میں 7 اسلامی ممالک کے شہریوں کے امریکا آنے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

بروکلن میں وفاقی عدالت کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق خاتون جج این ڈونیلی نے شہری آزادی کی تنظیم "ACLU" سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ ڈونیلی نے مقدمے کا بغور جائزہ لینے کے بعد امریکی حکام کو احکامات جاری کیے ہیں کہ اگر صدارتی پابندی میں شامل ممالک کے شہریوں کے پاس امریکا میں داخلے کے لیے مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں تو ان کو بے دخل نہ کیا جائے۔ یہ ممالک ایران ، عراق ، یمن ، شام ، لیبیا ، صومالیہ اور سوڈان ہیں۔ جج نے حکام سے کہا ہے کہ کہ جمعے کی شام سے امریکی ہوائی اڈوں پر حراست میں لیے جانے والے تمام افراد کے ناموں کی فہرست بھی فوری طور پر پیش کی جائے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق صدر ٹرمپ کے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے فوری طور پر نافذ ہونے کے سبب امریکی ہوائی اڈوں پر جمعے کی شام سے مذکورہ سات ممالک کے درجنوں شہریوں کو امریکا پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا تاہم ان افراد کی درست تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

شہری آزادی کی امریکی تنظیم "ACLU" کے سربراہ اینتھونی رومیرو نے وفاقی جج کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ عدالت کی سماعت سے باہر آتے ہوئے رومیرو کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ صدر ٹرمپ غیر آئینی اور غیر قانونی قوانین اور ایگزیکٹو آرڈر جاری کر رہے ہیں۔ البتہ عدالتیں تمام لوگوں کے حقوق کے دفاع کے واسطے موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکا کے مختلف حصوں میں متعدد ہوائی اڈوں پر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حراست میں لیے جانے والوں کو رہا کیا جائے جن میں اکثریت کے پاس درست ویزے اور گرین کارڈ ہیں تاہم اس کے باوجود انہیں ملک میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔