ایک حرف نے برطانوی وزیراعظم کو ’فحش ماڈل‘ بنا ڈالا!

وائیٹ ہاؤس اپنی غیر ارادی غلطی پر سخت پیشمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بسا اوقات زبان وبیان کی انتہائی معمولی لغزش کسی بڑے واقعے اور غیرمعمولی تبدیلی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ’اک نقطے نے محرم سے مجرم بنادیا‘ کی بات بھی اسی لیے ضرب المثل کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کی تاج پوشی کے بعد وائیٹ ہائوس کی نئی نویلی اور ’اُجلی‘ حکومت پر اپنی تشکیل کے پہلے ہی ہفتے ایک ایسا بد نما داغ لگا ہے جس نے وائیٹ ہاؤس کو بھی ’محرم سے مجرم بنا دیا‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائیٹ ہاؤس کی جانب سے ایک حرف کی غلطی نے برطانوی وزیراعظم ’تھریسا مے‘ اور اچھی خاصی سیاست دان کو برطانیہ کی شہرت یافتہ فحش فلموں کی اداکارہ بنا کررکھ دیا۔ وائیٹ ہاؤس کی اس معمولی غلطی نے امریکی انتظامیہ کو غیر معمولی پشیمانی سے دوچار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حال ہی میں جب برطانوی وزیراعظم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تفصیل ملاقات کےبعد بیرون ملک دورے کے اگلے پڑاؤ ترکی کے لیے نیویارک کے ہوائی اڈےسے خصوصی طیارے کے ذریعے روانہ ہونے والی تھیں کہ وائیٹ ہاؤس کی طرف سے ایک بیان شائع کیا گیا۔

بیان کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر اس میں محترمہ تھریسا مے کے نام کے انگریزی ہجے میں ایک حرفh کی کمی رہ گئی تھی۔ اس حرف کی کمی نے تھریسا ’ Theresa‘ کو Teresa بنا دیا۔ وائیٹ ہاؤس کے مشیروں کی اس ’یک حرفی‘ غلطی نے امریکی انتظامیہ کو حد درجہ شرم سار کیا ہے اور وہ اب اس کی وضاحتیں کرتے پھر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’Teresa‘ برطانیہ ہی کی ایک فحش اداکارہ ہے اور وہ بھی کافی شہرت رکھتی ہے۔ تھریسا مے کے نام میں پروف کی غلطی کے بعد امریکی انتظامیہ کی طرف سے وضاحتیں کی جا رہی ہیں کہ ایسا ارادی طورپرہرگز نہیں کیا گیا بلکہ ٹائپنگ میں پروف کی غلطی رہ جانے سے ہوا ہے۔

جریدہ ’ڈیلی ٹیلیگراف‘ نے بھی وائیٹ ہاؤس کی پریشانی اور پیشمانی کا تذکرہ کرتےہوئے امریکی انتظامیہ کا دفاع کیا ہے۔ ٹیلیگراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ تھریسا مے کے نام کے ہجے غلط لکھے گئے ہیں بلکہ مئے کے وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالنے کے بعد کئی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل یہ غلطی کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں