ترکی میں داعش سے تعلق کے شبے میں دو ایرانی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی پولیس نے دو مشتبہ ایرانیوں کو حراست میں لیا ہے جن پر شدت پسند گروپ دولت اسلامی’داعش‘ سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے’اناطولیہ‘ کے فارسی سیکشن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشتبہ ایرانیوں کو جنوبی ضلع ماردین سے گرفتار کیا گیا۔

خبر رساں ادارے نے سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے حسن اور سجاف نامی دو مشتبہ ایرانیوں کو حراست میں لینے کےبعد ان سے تفتیش شروع کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی پولیس کو شبہ ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں ایرانیوں کا داعش سے تعلق ہے۔

پولیس ہیڈ کواٹر منتقل کیے گئے دونوں مشتبہ ایرانیوں کے قبضے سے اسمارٹ فون برآمد کیے گئے ہیں جن کی چھان بین سے پتا چلا ہے کہ انہوں نے ’’گوگل ارتھ‘‘ کی مدد سے ترکی میں پولیس کے مراکز ، اہم راستوں اور حکومتی تنصیبات کے نقشے محفوظ کررکھے تھے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ انہوں اور ایوب اور جاھد نامی و دیگر ایرانیوں کو بھی گرفتار کیا تھا تاہم انہیں تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

ترک پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے دو مشتبہ ایرانیوں کے فلیٹ پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے آرترگلو شہر، ماردین گورنری، دیا بکر ہوائی اڈے کی تصاویر اور کرد ورکرز پارٹی’پی کے کے‘ نامی تنظیم جسے انقرہ دہشت گرد قرار دیتا ہے سے تعاون کی دستاویزات بھی قبضے میں لی گئی ہیں۔

گرفتار دونوں ایرانیوں سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد انہیں عدالت میں یش کیا جائے گا۔ ترک پولیس کے دعوے کے بعد ایران کی جانب سے اپنے شہریوں کی ترکی میں گرفتاریوں پر کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں