.

لاکھوں نوجوانوں کی بے دخلی، ٹرمپ حکومت مخمصے کا شکار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تارکین وطن کی امریکا میں داخلے پر پابندیوں کے فیصلوں کے جلو میں امریکی کانگریس میں ری پبلیکن پارٹی کے مقرب ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں میں تارکین وطن نوجوانوں کو تحفظ دینے کی سابقہ پالیسی کو برقرار رکھنے میں گہرے اختلافات ہیں۔ بعض مشیر سابق صدر باراک اوباما کی غیرقانونی طور پرامریکا میں داخل ہونے والے نوجوانوں کےبارے میں پالیسی کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں جب کہ بعض مشیروں کا کہنا ہے کہ بچپن میں امریکا میں آنے والے افراد جو امریکا میں جوان ہوئے ہیں انہیں نکال دیا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 7 لاکھ 50 ہزار کے لگ بھگ ہے اور انہیں اصطلاح میں ’ویژنری‘ کہا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو متنازع نوعیت کے دعوے کیے تھے ان میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ وہ صدر بن کر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ان سات لاکھ پچاس ہزار افراد کو بھی ملک بدر کریں گے جو بچپن میں غیرقانونی طور پرامریکا میں داخل ہوئے مگر اب وہ امریکا ہی میں پلنے بڑھنے کے بعد جوان ہوچکے ہیں۔

کانگریس کے ایک سابق مشیر برائے ایمی گریشن کا کہنا ہے کہ وائیٹ ہاؤس کے موجودہ مدارالمہام اور مشیر اس امر پر تقسیم ہیں کہ آیا ان افراد کے ساتھ کیا جائے جو امریکا میں جوان ہوئے۔ اس حوالےسے اعتدال پسندانہ سوچ رکھنے والوں میں وائیٹ ہاؤس کے ایک سینیر عہدیدار رابیس پریباس پیش پیش ہیں جو ان ویژنری نوجوانوں کی بے دخلی کے خلاف ہیں جب کہ اسٹیفن میلر اور اسٹیف بانون جیسے مشیر ان نوجوانوں کو ملک سے نکال ہابرکرنے کے حامی ہیں۔

اوباما کا قانون تارکین وطن کا محافظ

امریکی ایوان نمائندگان میں ری پبلیکن پارٹی کے معاون کا کہنا ہے کہ فی الوقت اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ آیا نئی امریکی انتظامیہ تارکین وطن اور مہاجرین کے دفاع کے لیے اوباما کے وضع کردہ قانون سے انحراف کررہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس قانون کو برقرار رکھا جاتا ہے تو یہ ٹرمپ کے لیے بھی ایک چیلنج ہوگا کیونکہ ایک طرف وہ میکسیکو کی سرحد پر ہزاروں کلو میٹر کی دیوار تعمیر کرنے کے لیے کانگریس کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ ملک میں موجود غیرقانونی تارکین وطن کونکال باہر کرنے کی منصوبہ بندی بنا رہے ہیں۔ اگر سابق صدر اوباما کے دور میں تیار کردہ قانون کو برقرار رکھا جاتا ہے تو یہ تارکین وطن کے لیے امریکی شہریوں کے ساتھ برابری کا ایک کارڈ تصور کیا جائے گا۔

سینٹ میں رکن کانگریس اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ڈیک دربین اور ری پبلیکن کے لینزی گراہم ’ویژنری‘ نوجوانوں کو تحفظ دینے کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ویژنری نوجوانوں کو تحفظ دینے کے قانون پرعمل درآمد سے میکسیکو کے ساتھ دیوار فاصل کی تعمیر میں مدد ملے گی۔

بہر کیف سابق صدر اوباما کے دور میں تارکین وطن نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے دفاع اور اسے ختم کرنا ٹرمپ کے لیے ایک چیلنج ہوگا اور اس کی حمایت اور مخالفت دونوں کے لیے حمایت حاصل کرنے میں نو منتخب صدر کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔