.

مس یونیورس : شامی اور لبنانی نژاد حسینائیں وینزویلا اور تنزانیہ کی نمائندہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال کے لیے مس یونیورس کا مقابلہ پیر کی شام فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقد کیا ہو رہا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں کوئی بھی عرب ملکہ حسن اپنے ملک کی نمائندگی نہیں کر رہی ہے۔ مصر تیسری مرتبہ مقابلے سے غائب ہے جب کہ عراق اور لبنان اندرونی وجوہات کی بنا پر مقابلے سے باہر ہیں۔ اب مقابلے میں 86 ملکوں سے تعلق رکھنے والی حسینائیں مس یونیورس کا تاج اپنے سر پر سجانے کے واسطے مقابلے میں ہیں۔ ان ہی حسیناؤں میں تنزانيا کی لبنانی نژاد ملکہ حسن جیہان دیماسک بھی ہیں۔ جیہان کا تعلق لبنان کے جنوبی قصبے "حاريص" ہے۔ اس کے علاوہ وینزویلا کی شامی نژاد ملکہ حسن مريم حبش بھی مقابلے میں شریک ہے۔ مریم کا تعلق شامی صوبے طرطوس کے ایک گاؤں "الخريبات" سے ہے جہاں اس نے اپنا تھوڑا بچپن گزارا۔ اس کے برعکس جیہان کی زندگی لبنان ے علاوہ 3 افریقی شہروں میں گزری۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے 15 ماہ قبل شامی نژاد مریم حبش کے بارے میں ایک رپورٹ بھی نشر کی تھی۔ یونی ورسٹی میں ڈینٹل سرجری کے تیسرے سال کی 21 سالہ طالبہ مریم فیشن ماڈل بھی ہے۔ 180 سینٹی میٹر (تقریبا 5 فٹ اور 11 انچ) طویل القامت مریم نے 2015 میں اپنی 24 کا مقابلہ کر کے وینزویلا کی ملکہ حسن کا اعزاز جیتا تھا۔ وہ گزشتہ برس مس یونیورس کے کے مقابلے میں بھی شریک ہوئی تاہم وہ مقابلے کا تاج اپنے سر پر سجانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

دوسری جانب لبنانی نژاد تنزانیہ کی ملکہ حسن جیہان دیماسک کی عمر 20 برس اور قد 176 سینٹی میٹر (تقریبا 5 فٹ اور 9.5 انچ) ہے۔ تنزانیہ کے اخبار The Citizen کو دیے گئے انٹرویو کے مطابق جیہان سواحلی زبان بولتی ہے اور فارغ اوقات میں فیشن ماڈلنگ بھی کرتی ہے۔ لبنانی باپ اور تنزانیہ سے تعلق رکھنے والی ماں کے 5 بچوں میں اس کا دوسرا نمبر ہے۔ جیہان کی پیدائش تنزانیہ کے دوسرے بڑے شہرMwanza میں ہوئی۔ اس کے 4 بھائیوں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں۔ اخباری انٹرویو میں جیہان نے بتایا کہ اس کی ماں "جیہان" ایک مصری گلوکارہ سے بہت متاثر تھی۔ لہذا پیدائش پر اس کا نام مصری گلوکارہ کے نام پر ہی رکھ دیا گیا۔

جیہان کا بچپن اور لڑکپن مختلف افریقی شہروں میں گزرا جن میں موزمبیق کے شہرBeira ، Nanpula اورMaputo شامل ہیں۔ اس دوران اس نے کئی برس اپنے اہل خانہ کے ساتھ لبنان میں بھی گزارے جس کے بعد آخرکار یہ گھرانہ تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام لوٹ آیا۔