یمن : امریکی حملے میں القاعدہ کے ارکان سمیت 57 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے جنوبی صوبے البیضاء میں ہیلی کاپٹروں پر سوار ہوکر آنے والے امریکی کمانڈوز نے اتوار کو علی الصباح ایک چھاپا مار کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں القاعدہ کے تین لیڈروں سمیت ستاون افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مہلوکین میں سولہ عام شہری اور القاعدہ کے اکتالیس جنگجو شامل ہیں۔علاقے کے مکینوں اور القاعدہ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکی فوج نے کیا ہے جبکہ امریکا نے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ البیضاء کے ضلع یکلا میں دوبدو لڑائی میں یمن میں القاعدہ کی شاخ کے تین سینیر رہ نما عبدالرؤف الذہب ،سلطان الذہب اور سیف النمس دوسرے متعدد جنگجوؤں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں کل ستاون افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں سات خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

اگر امریکی فوج اس چھاپا مار کارروائی کی تصدیق کردیتی ہے تو یہ اس کی یمن میں گذشتہ دو سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں اس طرح کی پہلی کارروائی ہوگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ کسی ملک میں القاعدہ کے خلاف پہلا آپریشن ہے۔

یمنی القاعدہ نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک پیغام میں عبدالرؤف الذہب اور دوسرے جنگجوؤں کی حملے میں ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انھیں مقدس جہادی قرار دیا ہے۔ تاہم اس نے بیان میں یہ نہیں بتایا ہے کہ تنظیم کے کل کتنے جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

یکلا کے ایک مکین نےاپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''یہ کارروائی علی الصباح شروع ہوئی تھی۔پہلے ایک ڈرون نے عبدالرؤف الذہب کے مکان پر ایک بم پھینکا تھا۔پھر وہاں ہیلی کاپٹر آ گئے اور ان سے مکان پر چھاتا بردار اترے تھے اور انھوں نے وہاں موجود ہر کسی کو ہلاک کردیا تھا''۔

اس نے مزید بتایا کہ''اس کے بعد مسلح افراد نے امریکی فوجیوں پر فائرنگ کی تھی۔وہ اس وقت ہیلی کاپٹروں پر واپس جارہے تھے۔ان ہیلی کاپٹروں سے بھی مسلح افراد اور متعدد مکانوں پر بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں''۔فہد نامی ایک مقامی عہدے دار نے بتایا ہے کہ متعدد لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔حملے میں کئی مکانوں اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں