.

امریکی فیصلے کے رد عمل میں تہران میں سوئس سفیر کی طلبی، احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ایرانی شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے پر سخت احتجاج کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے تہران میں متعین سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو طلب کر کے ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر سخت احتجاج کیا گیا جس میں امریکا نے ایران اور چھ دوسرے مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکا داخلے پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ایران سوئٹزرلینڈ کے ذریعے بالواسطہ طور پر واشنگٹن سے ڈیل کرتا ہے۔

نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے سوئس سفیر کو ایک احتجاجی یادداشت پیش کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر می شدید مذمت کی گئی ہے جس میں انہوں نے تین روز قبل ایران اور سات دوسرے مسلمان ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔

سوئس سفیر کو فراہم ی گئی احتجاجی یاداشت میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ایرانی باشندوں کے بارے میں کیا گیا فیصلہ جھوٹ، امتیازی سلوک پر مبنی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے بھی تصدیق کی ہے کہ گذشتہ روز وزرات خارجہ نے سوئس سفئر گیلیو ھاس کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے ان سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ امریکا میں داخل ہونے کی اجازت ملنے کی تصدیق تک امریکا کے سفر سے گریز کریں۔

یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنا ایک انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے سات مسلمان ملکوں ایران، عراق، یمن، صومالیہ، سوڈان اور لیبیا کے باشندوں کے امریکا میں خلے پر پابندی عاید کردی تھی۔ صدر ٹرمپ کے مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔