.

ہزاروں افراد کا ٹرمپ کا دورہ برطانیہ روکنے کا مطالبہ

ٹرمپ کا دورہ روکنے کے لیے برطانیہ میں عوامی پٹیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے بعد دنیا بھر میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسی ضمن میں برطانیہ میں ایک عوامی پیٹیشن پر دستخطی مہم جاری ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلمان باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ روکا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانیہ میں عوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ لندن کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ روکنے کے مطالبے پرمبنی پٹیشن پر دستخطوں کے حصول کا سلسلہ کل شروع ہوا اور صرف چند گھنٹوں میں ڈیڑھ ہزار افراد نے دستخط کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہرمنٹ میں برطانوی شہری اس یاداشت پر دستخط کررہے ہیں۔ اس لیے توقع ہے کہ چند ایام میں کئی ملین برطانوی شہری مطالبے کی حمایت کرسکتے ہیں۔

یہ پٹیشن ایک ایسے وقت میں تیار کی جا رہی ہے جب برطانوی وزیراعظم تھریسا مے تین روز قبل امریکی دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وطن واپس لوٹی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا برطانیہ میں داخلہ روکنے کے لیے برطانیہ میں آن لائن مہم حکومتی ویب سائیٹ کے اس سیکشن میں جاری ہے جو حکومت کی جانب سے شہریوں کے لیے خصوصی طور پر کھولا گیا۔ اگر اس پٹیشن پر دس ہزار افراد دستخط کرتے ہیں تو حکومت کو اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اگر پٹیشن کے حامیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوجاتی ہے تو اسے برطانوی پارلیمنٹ میں زیربحث لایا جاسکتا ہے۔

یہ مہم برطانوی سماجی کارکن گراہام گیسٹ کی جانب سے شروع کی گئی ہے۔ یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ گذشتہ روز سہ پہر تک ایک چوتھائی ملین افراد نے دستخط کردیے تھے۔ اگر پٹیشن پر دستخطوں کے حصول کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہتا ہے تو بہت جلد ایک ملین دسختطوں کا ہدف مکمل کرلیا جائے گا اور یوں ڈونلڈ ٹرمپ کی برطانیہ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کرنے کا جواز پورا ہوجائے گا۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائے، کیونکہ انہوں نے امریکی صدر کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف مسلمان باشندوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ہے بلکہ ملکہ عالیہ کو بھی تکلیف پہنچائی ہے‘۔

یاد رہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے عالمی رہ نماؤں کو جب دورہ لندن کی دعوت دی جاتی ہے تو ان رہ نماؤں کو ملکہ کا مہمان قراردیا جاتا ہے۔ شاہی روایات کے مطابق ملکہ خود بھی چند عالمی رہ نماؤں کو دورہ لندن کی دعوت دے سکتی ہیں۔ تاہم ملکہ کے مہمانوں کی حیثیت ان دیگر عالمی سیاسی رہ نماؤں سے الگ ہوتی ہے جو حکومتی نمائندوں سے ملاقات کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔