.

امریکی حملے میں مقتول انورالعولقی کی آٹھ سالہ بیٹی کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی یمن میں چھاپا مار کارروائی کے دوران متعدد خواتین اور بچے مارے گئے ہیں۔ان میں القاعدہ کے ایک مقتول رہ نما انورالعولقی کی آٹھ سالہ بیٹی نوار العولقی بھی شامل ہے۔

یمن کے جنوبی صوبے البیضاء کے دیہی علاقے یکلا میں ہیلی کاپٹروں پر سوار ہوکر آنے والے امریکی کمانڈوز نے اتوار کو علی الصباح ایک چھاپا مار کارروائی کی تھی جس کے نتیجے میں القاعدہ کے تین مقامی لیڈروں سمیت ستاون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مہلوکین میں سولہ عام شہری اور القاعدہ کے اکتالیس جنگجو شامل ہیں۔امریکی فوج کے ایک سینیر عہدے دار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اہم انٹیلی جنس شواہد حاصل کرنا تھا۔

ایک یمنی عہدے دار کے مطابق اس چھاپا مار کارروائی میں آٹھ خواتین اور نوارالعولقی سمیت سات بچے مارے گئے تھے۔ان بچوں کی عمریں تین سے تیرہ سال کے درمیان تھیں۔

نوار کے دادا اور یمن کے سابق وزیر ناصرالعولقی نے بتایا ہے کہ ''اس کو گردن میں گولی لگی تھی اور وہ دو گھںٹے تک اسی طرح خون میں لت پت حالت میں پڑی رہی تھی۔انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ''ان بچوں کو کیوں قتل کیا گیا ہے؟ یہ نئی امریکی انتظامیہ ہے۔یہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور ایک بڑا جرم ہے''۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی حکومت میں نوار قتل ہونے والی پہلی امریکی شہری ہے۔اس کا سولہ سالہ بھائی عبدالرحمان اپنے ایک سترہ سالہ کزن اور متعدد یمنیوں سمیت امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔سابق صدر براک اوباما نے اپنے دور حکومت میں انورالعولقی کو ڈرون حملے میں قتل کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ البیضاء کے ضلع یکلا میں دوبدو لڑائی میں یمن میں القاعدہ کی شاخ کے تین سینیر رہ نما عبدالرؤف الذہب ،سلطان الذہب اور سیف النمس دوسرے متعدد جنگجوؤں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔الذہب خاندان العولقی کا سسرالی تھا۔امریکا اس خاندان کو القاعدہ کا اتحادی قرار دیتا چلا آرہا ہے۔

اس کارروائی کے دوران امریکی سیل ٹیم کا ایک رکن بھی جھڑپ میں ہلاک ہوگیا تھا۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس کی شناخت چیف پیٹی آفیسر ولیم ریان اوونز کے نام سے کی ہے۔