.

صدر ٹرمپ نے حکم عدولی پر قائم مقام اٹارنی جنرل کو چلتا کیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکم عدولی کی مرتکب قائم مقام اٹارنی جنرل کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔اٹارنی جنرل نے محکمہ انصاف کے وکلاء کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے تارکین وطن سے متعلق متنازعہ انتظامی حکم کی عدالت میں پیروی نہ کریں۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اٹارنی جنرل سیلی ییٹس نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے حکم پر عمل درآمد سے انکار کرکے محکمہ انصاف سے انحراف کیا ہے۔اس لیے صدر ٹرمپ نے انھیں ان کی ذمے داریوں سے سبکدوش کردیا ہے اور ورجینیا کے مشرقی ضلع کے اٹارنی ڈانا بوئنٹے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا ہے۔وہ نامزد اٹارنی جنرل سینیٹر جیف سیشنز کے سینیٹ سے تقرر کی منظوری تک اس عہدے پر کام کرتے رہیں گے''۔

سیلی ییٹس اوباما انتظامیہ کے دور سے قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔انھوں نے سوموار کے روز محکمہ انصاف کے وکلاء کو ایک خط کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ وہ عدالتوں میں صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم کے خلاف مقدمات کی پیروی نہ کریں۔

اس متنازعہ حکم کے تحت ہر طرح کے مہاجرین پر امریکا میں 120 روز کے لیے داخلے پر پابندی عاید کردی گئی ہے اور سات مسلم ممالک شام ،عراق ،یمن ،لیبیا ،سوڈان ،صومالیہ اور ایران سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر 90 روز کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

سیلی ییٹس کا کہنا تھا کہ ''وہ اس بات میں یقین نہیں رکھتی ہیں کہ اس حکم کا دفاع اس ادارے کے انصاف کے حصول کے مقصد کے عین مطابق ہے اور یہ جائز بھی ہے''۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر حاصل اختیارات کے تحت ہی احکام جاری کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ یہ دلیل دیتے چلے آرہے ہیں کہ امریکیوں کو دہشت گردی کے حملوں سے تحفظ مہیا کرنے کے لیے تارکینِ وطن کی سخت چھان بین ضروری ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے حکم کا ہدف صرف اور صرف مسلمان ہی بن رہے ہیں اور امریکا کی تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کی تاریخی شہرت داغدار ہورہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  اپنے احکام کی خلاف ورزی پر قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی ییٹس کو برطرف کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے احکام کی خلاف ورزی پر قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی ییٹس کو برطرف کیا ہے۔