.

872 مہاجرین کو اس ہفتے امریکا میں داخلے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم کے باوجود 872 مہاجرین کو اس ہفتے میں ملک میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایک عہدے دار نے ان مسافروں کو پابندی سے استثنا دینے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم کے اجراء سے قبل امریکا میں داخل اور مقیم ہونے کے لیے کلیئر کردیا گیا تھا۔

ان مہاجرین کو محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایسے وقت میں ملک میں داخلے کے لیے استثنا دیا ہے جب دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں پر صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حکم کا بعض صورتوں میں عمل درآمد کرانے کی ذمے دار ایجنسیوں کو درست ابلاغ نہیں کیا گیا ہے۔

اختتام ہفتہ پر سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو انتظامی حکم کے تحت ہوائی اڈوں پر گرفتار کر لیا گیا تھا،انھیں بے دخل کر دیا گیا تھا یا انھیں امریکا آنے والی پروازوں پر سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ایک دستاویز کے مطابق جمعہ کی شب سے سوموار کی صبح تک امریکی ویزے رکھنے والے 348 افراد کو امریکا جانے والی پروازوں پر سوار ہونے سے روکا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے سات مسلم ممالک ایران ،عراق ،شام ،لیبیا ،یمن ،سوڈان اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر نوے روز کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی ہے۔

ان کے حکم کے اجراء کے بعد تین روز میں 200 سے زیادہ افراد امریکا پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن انھیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور ہوائی اڈوں پر ہی روک لیا گیا تھا۔

ہوائی اڈوں پر امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے افسروں نے 735 افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے الگ کر لیا تھا۔ان میں 394 کے پاس مسقتل اقامت کے لیے قانونی گرین کارڈ تھے۔ ڈی ایچ ایس نے اتوار کی شب کہا تھا کہ گرین کارڈ کے حاملین کو امریکا آنے والی پروازوں پر سوار ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔

دریں اثناء ڈیموکریٹک سینیٹروں نے صدر ٹرمپ کے حکم کو ایک بل کے ذریعے منسوخ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایک ری پبلکن سینیٹر نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ڈیمو کریٹک سینیٹر ڈائنے فینسٹین نے بتایا ہے کہ انھیں 27 سینیٹروں کی حمایت حاصل تھی لیکن سینیٹ کے قواعد وضوابط کے تحت صرف ایک ری پبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے ان کی تحریک کو ناکام بنا دیا ہے۔