.

حوثیوں کے اقتدار پر قبضے سے یمن میں جنگ چھڑی : برطانوی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بحران حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے اقتدار پر قبضے کی کارروائیوں کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔

سفیر ایڈمنڈ فٹن براؤن نے اپنے ٹویٹر صفحے پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے: '' ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ یہ جنگ علی عبداللہ صالح اور حوثیوں کے پرتشدد طریقے سے اقتدار پر قبضے کی وجہ سے چھڑی تھی''۔

فٹن براؤن کو فروری 2015ء میں یمن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ صنعا میں برطانوی سفارت خانے میں سرگرمیاں معطل ہونے کی وجہ سے وہ اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں اور وہیں سے روزمرہ سفارتی امور انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ حوثی ملیشیا نے ستمبر 2014ء میں دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور صدر عبد ربہ منصور ہادی جنوبی شہر عدن کی جانب چلے گئے تھے۔ ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن میں مارچ 2015ء میں فوجی مداخلت کی تھی۔اس اتحاد کے لڑاکا طیارے تب سے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں اور ان کی فضائی مدد سے یمنی فورسز نے حوثی ملیشیا اور علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے قبضے سے بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں۔

اس وقت حوثیوں اور علی صالح کی جنرل پیپلز کانگریس کا ملک کے بیشتر شمالی علاقوں پر قبضہ ہے جبکہ باقی ملک پر صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور ان کے اتحادی قبائل کا کنٹرول ہے۔ فریقین کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں لیکن ان کے درمیان ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کوئی سمجھوتا طے نہیں پا سکا ہے۔