.

دفاع اور میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوسکتی : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے قومی سلامتی کی ضروریات کے مطابق اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔

ایران نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب اس کے بیلسٹک میزائلوں کے حالیہ تجربات کو بین الاقوامی سطح پر مسترد کردیا گیا ہے اور امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ایران سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے۔ان کے تحت ایران پر ایسے میزائلوں کے تجربات پر پابندی ہے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی شوریٰ کونسل کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسین حسینی نے کہا ہے کہ دفاع اور میزائل پروگراموں پر کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے اور ہم کسی کو بھی اس معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

حسینی نے مزید کہا ہے کہ کمیٹی نے بدھ کے روز اپنا ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے اور اس میں پاسداران انقلاب کور کی فضائی افواج کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل امیر علی حاجی زادہ ،یورپ اور امریکی امور کے لیے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی اور سراغرسانی وزارت کے حکام نے شرکت کی ہے۔اس اجلاس میں امریکا کی نئی انتظامیہ اور اس کے اقدامات کے حوالے سے امور پر غور کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ دفاع اور میزائلوں کے ایشو پر کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور ان میں غیرمعمولی پیش رفت ہونی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ شوریٰ کونسل کو اس معاملے میں اپنی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔