کیا ٹرمپ ایران پر عسکری ضرب لگائیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی کانگریس میں ایک قانونی بل متحرک ہے جو ضرورت پیش آنے پر کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔ بل کا مقصد "ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکی صدر کو مسلح افواج کو استعمال میں لانے کے اختیارات سونپنا ہے"۔

مبصرین کے مطابق مشرقی وسطی بالخصوص یمن، شام اور عراق میں ایران اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے خطرات میں اضافے کے سبب اس بل کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔

امریکی کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے ریپبلکن رکن ایلسی ہیسٹنگز نے 3 جنوری کو یہ بل 10H. J. RES کے نام سے پیش کیا۔ یہ بل امریکی صدر کو ایران کے خلاف حفظ ما تقدم کے طور پر عسکری کارروائی کے واسطے مسلح افواج کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک دوسرا بل بھی کانگریس میں زیر گردش ہے جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل کے پروگرام میں توسیع کے سبب اُس پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایران میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سابق معاون اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سابق سرکاری ترجمان حسین موسویان نے اپنے ملک کو خبردار کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی ایران میں "نظام کی تبدیلی کا منصوبہ" پھر سے فعال ہو جائے گا۔

اصلاح پسندوں کے روزنامے "شرق" کے ساتھ انٹرویو میں موسویان نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ ، سکیورٹی اور عسکری امور کی پالیسیوں کے حوالے سے جو نام سامنے آئے ہیں وہ تمام شخصیات ایرانی نظام اور نیوکلیئر معاہدے کی معاند ہیں اور ایرانی نظام کے سقوط پر یقین رکھتے ہیں۔

موسویان نے باور کرایا کہ ایرانی نظام سے متعلق اوباما کی پالیسیوں کی مخالف کانگریسی ریپبلکن اکثریت ٹرمپ کے دور میں موقع سے فائدہ اٹھا کر ایران کو شدید ضربوں کا نشانہ بنانے کی طرف جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں