.

ٹرمپ دور کی خلیج کے پانی میں پہلی بڑی فوجی مشق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج عربی کے پانی میں منگل کے روز ہونے والی فوجی مشقوں میں امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور آسٹریلیا نے شرکت کی۔ توقع ہے کہ یہ مشقیں جمعرات 2 فروری تک جاری ہیں گی۔

اس سے قبل امریکی بحریہ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ خلیج عربی میں فوجی مشقوں کی تیاری کر رہی ہے جس میں چار ممالک کی بحریہ کی فورسز شامل ہوں گی۔ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی مشق ہے۔

مشقوں کا مقصد شریک ممالک کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے بالخصوص خلیج میں بین الاقوامی تجارت کے تحفظ ، جہاز رانی اور ان بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہے جس سے دنیا بھر کو توانائی کی فراہمی ہوتی ہے۔

مشترکہ بحری فورسز کی کارروائیوں کی قیادت برطانوی جنرل اینڈرو بیرنز کے پاس ہے۔ بیرنز کا کہنا ہے کہ "خطے میں تزویراتی آبی گزرگاہیں دنیا بھر میں غذائی مواد ، اشیاء صرف ، خام مال اور توانائی کی آزادانہ نقل و حرکت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ مشقیں شریک ممالک کو موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ تجربے اور آگہی کے تبادلے ، اپنی صلاحیتوں میں اضافے اور تعاون کو بہتر بنانے کے واسطے مل جل کر کام کر سکیں تاکہ تجارت کے آزاد بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے"۔

مشقوں میں اہداف کو نشانہ بنانا ، بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کے اقدامات ، خلیج کے پانی میں بحری گشتی کارروائیاں اور تمام اقسام کی بحری کارروائیاں شامل ہیں جس کا مقصد شریک فورسز کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنا اور بحری سکیورٹی کو سپورٹ کرنا ہے۔

مشقوں میں شریک فورسز متعدد بحری ، فضائی ، روایتی اور غیر روایتی خطرات کا سامنے کرنے کے لیے چاروں ممالک کی بحری افواج کی مستعدی اور پھرتی کی جانچ کرنا چاہتی ہیں۔

یہ مشقیں ایرانی ساحلوں کے مقابل پانی میں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ 9 جنوری کو خلیج کے پانی میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام کشتیوں کے قریب آجانے پر انتباہی فائرنگ کی تھی۔