.

ایرانی حکومت نوجوان کی پھانسی روک دے: اقوام متحدہ ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ایک کم عمر لڑکے کو پھانسی پر لٹکانے کا عمل روک دے۔اس لڑکے کو ہفتے کے روز تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔

اس نوجوان حامد احمدی کی اس وقت عمر پچیس سال ہے۔اس کو 2009ء میں جب سزائے موت سنائی گئی تھی تو اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی۔اس نے 2008ء میں پانچ لڑکوں کے درمیان لڑائی کے دوران ایک نوجوان کو چاقو گھونپ دیا تھا۔

اس کے بعد سے تین مرتبہ احمدی کی پھانسی موخر کی جاچکی ہے۔ عدالت نے اس کے ایک پولیس تھانے میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر اس کو سزائے موت سنائی تھی۔اس نے مبینہ طور پر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ بیان دیا تھا اور اس کے وکیل اور خاندان کو بھی اس تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے علم کے مطابق حامد احمدی کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور اس کے انسانی حقوق کا بھی بالکل خیال نہیں رکھا گیا تھا۔عدالت نے فیصلہ سناتے وقت تشدد سے لیے گئے اعترافی بیان اور دیگر الزامات کو ملحوظ نہیں رکھا تھا۔

انھوں نے کہا ہے کہ '' ایسی کوئی بھی سزائے موت جو حکومت کی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کیے بغیر سنائی گئی ہے اور فرد جرم ڈرا دھمکا کر لیے گئے اعترافی بیان پر مبنی ہے یا اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے تو اس کی بنا پر پھانسی کی سزا غیر قانونی اور انتقامی ہوگی''۔