.

سعودی بحریہ کیسے حوثیوں کے حملوں کا دفاع کررہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے حال ہی میں سعودی عرب کے ایک جنگی بحری جہاز کو سمندر میں اپنے خودکش حملے میں نشانہ بنایا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کو میدانوں سے پانیوں میں منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سعودی عرب کا جنگی بحری جہاز یمن کی حدیدہ بندرگاہ سے مغرب میں منگل کے روز گشت کررہا تھا جب اس پر حوثی ملیشیا کی تین کشتیوں سے خود کش حملہ کیا گیا۔

ایک حوثی بمبار نے اپنی کشتی اس جہاز کے پچھلے حصے سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں دھماکا ہوا تھا جبکہ دو کشتیاں جہاز سے شدید فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

سعودی عرب کی بحری افواج خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں اہم اقتصادی اور تجارتی تنصیبات کا تحفظ کررہی ہیں۔ انھیں سمندر میں فوجی اور شہری قافلوں کے تحفظ کی ذمے داری سونپی کی گئی ہے۔

سعودی عرب کی محفوظ درآمدات اور برآمدات کا انحصار بھی سعودی عرب کی بحری افواج پر ہے اور وہ قدرتی آفات اور بحرانوں کے دور میں بھی حکام کی مدد کرتی ہیں۔

اس وقت سعودی عرب کے پاس فرانسیسی ساختہ تین جنگی بحری جہاز ہیں۔یہ جدید ہتھیاروں اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔ان کی اپنی بھی چھے الگ الگ توپیں ہیں جن سے دشمن کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔