.

میزائل تجربات پر ایران کو باضابطہ امریکی انتباہ

یمن میں سعودی اور اماراتی جہازں پرحملوں میں ایران کا ہاتھ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران کو میزائل تجربات، یمن کے حوثی باغیوں کی مسلح مدد اور یمن کی الحدید بندرگاہ کے قریب سعودی عرب کے ایک بحری جنگی جہاز پر خود کش حملے میں ملوث ہونے پر سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین نے بدھ کو ایک انتباہی بیان میں ایران کو خبردار کیا کہ وہ خلیج اور عرب خطے کے امن واستحکام کو تباہ کرنے اور یمن کے حوثی باغیوں کی مدد بند کرے ورنہ تہران کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

وائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر فلین کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایران کی جانب بیلسٹک میزائل تجربات، الحدیدہ بندرگاہ کے قریب سعودی بحری جنگی جہاز پر حملہ اور حوثی باغیوں کی مسلح امداد امریکا اور عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہیں۔ ایران کے ان اقدامات سے پتا چلتا ہے کہ تہران مشرق وسطیٰ میں بدنظمی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل تجربہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود ایران جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائل تیار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران یمن کے سمندر میں سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جہازوں پرحملوں میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملوث ہیں۔ ایران ایک منصوبے کے تحت خطے میں امریکی دوستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ٹرمپ کی ایران بارے اوباما کی پالیسی پر تنقید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک بار پھرسابق صدر باراک اوباما کی ایران بارے پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک بیان میں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کی اسلحہ کی شدت پسندوں کو منتقلی، دہشت گردی کی مدد اور عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کے باوجود اوباما حکومت تہران کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے اور امن وبھائی چارے کی فضاء تباہ کرنے کی ایرانی کارروائیوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ایرانی اقدامات کو متعدد بار تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

بیان میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی گئی اور کہا گیا ہے کہ سابق حکومت ایران کے معاملے میں غیر فعال اور اقوام متحدہ کے معاہدوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلین کا نے سرکاری طور پر ایران کو متنبہ کیا کہ وہ میزائل تجربات اور مشرق وسطیٰ میں امریکی دوستوں پرحملوں سے باز رہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر ایران نواز حوثی باغیوں نے تین خود کش بمبار کشتیوں کی مدد سے سعودی بحری جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم دو کشتیوں کو حملے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا۔ ایک کشتی کے ذریعے کیے گئے خود کش حملے کے نتیجے میں دو سعودی سپاہی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔