اسرائیلی بستیوں کی توسیع امن کے لیے مفید نہیں : وہائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی اراضی میں یہودی آبادکاری کے لیے نئی یونٹوں کی تعمیر یا موجودہ بستیوں میں توسیع کا عمل ہوسکتا ہے کہ فلسطینی اسرائیلی تنازع کے حل کے لیے "مددگار عامل" نہ ہو۔

جمعرات کی شام وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ " اگر ہم بستیوں کے وجود کو امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتے تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نئی بستیوں کی تعمیر یا موجودہ بستیوں کا حالیہ حدود سے زیادہ وسیع ہونا ممکن ہے کہ امن کو یقینی بنانے میں معاون ثابت نہ ہو"۔

بیان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے "بستیوں کی آبادکاری کے حوالے سے ابھی تک سرکاری موقف اختیار نہیں کیا ہے".. اور توقع ہے کہ رواں ماہ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کی ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر یہ معاملہ زیر بحث آئے گا۔

مذکورہ بیان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے دفاع میں دیے جانے والے سابقہ بیانات کی روشنی میں متضاد نوعیت کا شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر سے ملاقات سے دو ہفتے قبل سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ابھی یہ نہیں جانا جاسکتا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے گھروں کی تعمیر کے لیے اسرائیلی کوشش کے حوالے سے وہائٹ ہاؤس کا تازہ ترین بنیان مستقبل میں تعمیری کارروائیوں پر کس حد تک اثر انداز ہوگا۔

اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینن کا کہنا تھا کہ " میں اس کو امریکی انتظامیہ کا یو ٹرن تو ہر گز نہیں کہوں گا تاہم یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ موضوع ان کے ایجنڈے میں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکی صدر سے ملاقات میں اس پر بات چیت ہوگی.. یقینا ہمارے درمیان ہمیشہ تو اتفاق رائے نہیں ہوگا "۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ تھا کہ وہ سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کے مقابلے میں بستیوں کی آبادکاری کے منصوبوں کو زیادہ قبول کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ تاہم حالیہ بیان کا لہجہ ٹرمپ کے موقف کے قدرے برعکس ثابت ہو رہا ہے۔

سابق صدر باراک اوباما یہودی بستیوں کے تعمیری منصوبوں پر تنقید کرتے رہے تھے۔ ان کی انتظامیہ نے اکثر اس بات پر زور دیا کہ بستیوں کی تعمیر سے متعلق سرگرمیاں قانونی حیثیت کی حامل نہیں اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کا حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیری سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسرائیل نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ مغربی کنارے میں ایک نئی بستی تعمیر کرے گا۔ یہ گزشتہ صدی میں 90ء کی دہائی کے اواخر کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے واسطے تین ہزار نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔

20 جنوری کو ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے میں بستیوں کے ضمن میں 6000 سے زیادہ رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے لیے سبز جھنڈی دکھا دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں