ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں: ٹرمپ

بحری جہازوں پر ایرانی حملوں پر خاموش نہیں رہیں گے: وائیٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔ دوسری جانب وائیٹ ہاؤس نے اپنے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ تہران کے بیلسٹک میزائل تجربات اور امریکی بحری جہازوں پر حملے قابل قابل نہیں۔ ایران کے ان تمام تصرفات پر امریکا خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ ایران کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل تجربے کے بعد امریکا کے پاس تہران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اس موقف کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب دو روز قبل امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی حدوں میں رہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات اور سمندر میں بحری جہازوں پرحملوں پر ایران کو سنگین نتائج کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل اپنے ایک ’ٹوئٹر‘ پیغام میں سرکاری نوعیت کی تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا ایران بیلسٹک میزائل تجربات روک دے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

ادھر وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے دوبارہ بیلسٹک میزائل تجربہ یا سمندر میں ہمارے جہازوں پرحملے کی حماقت کی تو اس اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان شون سپائسر نے کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر اپنے بیان میں ایران کو متنبہ کرچکے ہیں کہ ایران کے معاندانہ اقدامات پر امریکا خاموش نہیں رہے گا۔

امریکی کانگریس میں ری پبلیکن پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر نئی پابندیاں عاید کیے جانے کی حمایت کریں گے۔

رکن کانگریس اور چیئرمین سینٹ پوریان نے کہا کہ حکومت نے ایران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اس فیصلے کی حمایت میں بھرپور مہم چلائیں گے۔

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینٹر پوپ کورکر نے ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں وہ ایران کے جوہری پروگرام پر قانون سازی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کامعاملہ وائیٹ ہاؤس کے ساتھ زیر بحث لایا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل ویلین کی ایران کو تنبیہ سے قبل تہران کی جوہری سرگرمیوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس بحث کے بعد ویلین نے ایران کو خبردار کیا کہ اس کے بیلسٹک میزائل تجربات خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں