مذہب کی بنیاد پر امتیاز "آگ سے کھیلنا" ہے: انجلینا جولی ٹرمپ سے مخاطب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معروف امریکی اداکارہ اور انسانی حقوق کے دفاع کی سرگرم کارکن انجلینا جولی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے کو روکنے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر سے کمزور پناہ گزینوں کو نقصان پہنچے گا اور اسے شدت پسندی بھی بھڑک سکتی ہے۔

انجلینا جولی نے جو پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی خصوصی ایلچی بھی رہ چکی ہیں.. نیویارک ٹائمز اخبار میں اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ "مذہب کی بنیاد پر امتیاز آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے"۔

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ ملک کے پر امن ہونے کی ضرورت پر یقین رکھتی ہیں تاہم فیصلوں کو خوف پر نہیں بلکہ حقائق پر منحصر ہونا چاہیے۔ جولی نے مضمون میں لکھا کہ "ہم جغرافیائی اور مذہبی بنیاد پر پورے ملکوں کے عوام کو منظرنامے سے ہٹائے بغیر بھی اپنا امن و امان قائم رکھ سکتے ہیں"۔

ٹرمپ کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر میں ایران ، عراق ، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان ، شام اور یمن کے شہریوں پر 90 روز کے لیے امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے 120 روز کے لیے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا عمل بھی روک دیا ہے جب کہ شامی پناہ گزینوں کا امریکا میں داخلہ غیر معینہ مدت کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں