امریکا میں ایرانیوں کی کُل تعداد 30 لاکھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں پناہ کے طالب تقریبا 9 ہزار ایرانی شہری ترکی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان 37 برسوں سے سفارت تعلقات نہیں ہیں تاہم سات اسلامی ممالک سے متعلق ٹرمپ کے متنازع ایگزیکٹو آرڈر کے سبب گرین کارڈ کے حامل لاکھوں ایرانی متاثر ہوں گے۔

سال 2015 میں ان سات ممالک سے تعلق رکھنے والے جتنے افراد نے امریکا میں داخلے کا ویزا حاصل کیا ان میں نصف کے قریب ایرانی شہری تھے۔

اس سلسلے میں "کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر" کے تحقیقی مطالعے کے مطابق امریکا میں اس وقت 30 لاکھ کے قریب ایرانی بستے ہیں جن میں کم از کم 50 فی صد کی پیدائش امریکا میں ہوئی۔ ان کی مجموعی دولت تقریبا 400 ارب ڈالر ہے اور یہ لوگ تحقیقی مراکز اور ذرائع ابلاغ کے اداروں میں نمایاں طور پر موجود ہیں۔

ایرانیوں کو امریکا کا ویزا حاصل کرنے میں بڑی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے لہذا وہ درخواست پیش کرنے کے واسطے ترکی یا پھر متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور پھر کچھ ہفتے بعد جواب وصول کرنے کے لیے واپس آتے ہیں۔

مبصرین کے نزدیک ٹرمپ کے فیصلے نے 1980 میں سابق صدر جمی کارٹر کی جانب سے ایرانیوں کے داخلے پر پابندی کی یاد تازہ کر دی ہے جب تہران میں 52 امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں