امریکا میں زیرِ تعلیم سعودی طلبہ کو سیاسی مباحث سے گریز کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں سعودی ثقافتی مشن دفتر نے زیر تعلیم سعودی طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی قسم کے سیاسی یا مذہبی بحث و مباحثے میں حصہ لینے سے گریز کریں اور میڈیا کے لیے ایسے بیانات جاری کرنے سے احتراز کریں جن سے انھیں نقصان پہنچ سکتا ہو۔

ثقافتی مشن نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں امریکا میں سعودی وظیفے پر زیر تعلیم تمام طلبہ کو مخاطب کیا ہے۔اس میں انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خطرناک یا مشتبہ سمجھے جانے والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں اور کسی بھی قیمت پر بڑے بڑے مظاہروں میں شرکت سے گریز کریں۔

بیان میں طلبہ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکا میں تعلیم کے دوران میں قواعد وضوابط اور اپنے ویزے کی شرائط کی مکمل پاسداری کریں،واجب الادا جرمانوں سے بچنے کی کوشش کریں اور اگر کسی عدالت میں حاضری ضروری ہے تو وہاں طے شدہ تاریخوں پر حاضر ہوں۔

سعودی طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے علاقوں سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات یا ڈیٹا کو حذف کردیں۔

انسٹی ٹیوٹ برائے ایجوکیشن کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2016ء میں 61287 سعودی طلبہ امریکا میں زیرتعلیم تھے۔ امریکا کی بہت سی جامعات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے داخلے پر پابندی کے حکم کے بعد ہائی الرٹ ہیں۔تاہم سعودی عرب ان سات ممالک میں شامل نہیں ہے۔ایک امریکی جج نے ان شہریوں پر نوّے روز کے لیے ملک میں داخلے پرعاید پابندی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں