ایران نے جوہری میزائلوں کے تجربات کیے: جرمن انٹیلی جنس

’سومار‘ اور ’خرمشہر‘ میزائل وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی کے انٹیلی جنس اداروں نےذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں ایران نے کروز میزائل ’سومار‘ اور ’خرمشہر‘ کے تجربات کیے ہیں۔ اتوار کے روز ہونے والے ان میزائل تجربات کی اہم بات یہ ہے کہ یہ دونوں میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق زمین سے زمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’سومار‘ میزائل کا تعلق بیلسٹک کروز میزائلوں سے ہے۔ یہ میزائل ایران کے ڈیفنس فاؤنڈیشن کی ایجاد ہے۔ سب سے پہلے یہ میزائل مارچ 2015ء کو سامنے آیا تھا۔

جرمن اخبار’دی ویلٹ‘ نے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کے روز ایران نے’سومار‘ بیلسٹک میزائل کا بھی تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل طویل فاصلے تک مار کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری وارڈ ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ایران نےجب پہلے ’سومار‘ میزائل کا تجربہ کیا تو اس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت 600 کلومیٹر تھی جب کہ جدید سومار میزائل 2000 سے 3000 کلو میٹر تک مار کرنے اور وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

جرمن اخبار’دی ویلٹ‘ نے ایک دفاعی تجزیہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے کروز میزائلوں کا اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کوئی ذکر نہیں۔ جوہری وارہیڈ لے جانے والے کسی بھی میزائل کے تجربے کی اجازت نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے کامیاب میزائل تجربہ کیا ہے، تاہم انہوں نے میزائلوں کی نوعیت اور ان کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا۔ بیلسٹک میزائلوں کے حالیہ تجربات کے بعد ایران اور امریکا کی نئی انتظامیہ کے درمیان سخت تناؤ پیدا ہوا ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل کے تجربات سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی صریح خلاف ورزی ہے جس میں ایران پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، بیلسٹک اور کروز میزائل تیار کرنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں