.

لیبیا : یورپ جانے والے 400 تارکین وطن کو روک لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ساحلی محافظوں نے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے چار سو سے زیادہ افریقی تارکین وطن کو روک لیا ہے۔

لیبیا کے ساحلی محافظوں کے ترجمان جنرل ایوب قاسم نے بتایا ہے کہ جمعرات سے ہفتے تک دارالحکومت طرابلس سے مغرب میں واقع صبراتہ کی بندرگاہ کے آس پاس 431 افراد کو پکڑا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ''ان تارکینِ وطن کا افریقا کے مختلف ملکوں سے تعلق ہے اور ان میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے''۔

اٹلی کے ساحلی محافظوں نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ انھوں نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دورانیے میں 1750 سے زیادہ تارکینِ وطن کو بحر متوسط میں ڈوبنے سے بچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2017ء کے آغاز کے بعد سے قریباً 230 افراد یورپ جانے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب مرے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کے لیڈروں نے جمعے کے روز مالطہ میں ایک اجلاس میں انسانی اسمگلروں کے کاروبار کے خاتمے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کی منظوری دی ہے۔ان اسمگلروں نے گذشتہ سال کے دوران میں لیبیا اور اٹلی کے راستے ایک لاکھ 81 ہزار افراد کو یورپی ممالک میں پہنچانے میں مدد دی تھی۔ان میں زیادہ تر افریقی تارکین وطن تھے۔

درایں اثناء قبرص سے شمال مغرب میں واقع ساحلی علاقے میں ایک کشتی پر سوار 93 شامی تارکینِ وطن کو بچا لیا گیا ہے۔ان میں 47 بچے تھے۔ قبرصی حکام کے مطابق یہ کشتی ساحل سے آٹھ ناٹیکل میل دور ملی تھی اور اس کو قبرص کے علاقے پافوس میں کاٹو پائرگوس لے جایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان افراد کو وہاں سے دارالحکومت نکوسیا منتقل کردیا جائے گا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان افراد نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ترکی سے اس کشتی پر سفر کررہے تھے اور انھوں نے قبرص پہنچنے کے لیے فی کس دو ،دو ہزار ڈالرز ادا کیے تھے۔