.

ٹرمپ انتظامیہ کی ایگزیکٹو آرڈر کو معطل کرنے والے فیصلے کے خلاف اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ نے ہفتے کے روز ایک وفاقی عدالت کے جج کی جانب سے جاری فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ جمعے کے روز جاری فیصلے میں مذکورہ جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلم اکثریتی ممالک پر امریکا کے سفر پر پابندی سے متعلق ایگزیکٹو آرڈ پر عمل درامد کو عارضی طور پر روک دینے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی عدالت کے جج جیمس روبرٹ کے حکم کے بعد امریکا کی داخلہ سکیورٹی کی وزارت ان سات ممالک (ايران ، عراق ، ليبيا ، صومالیہ ، سوڈان ، يمن اور شام) کے شہریوں اور پوری دنیا سے پناہ گزینوں کے لیے امریکا میں داخلے کا دروازہ کھولنے پر مجبور ہو گئی۔

دوسری جانب کئی فضائی کمپنیوں مثلا ترکش ایئرلائن ، ایمیرٹس ، اتحاد ایئرویز ، قطر ایئرویز ، ایئر فرانس ، اسپین کی آئیبیریا اور جرمنی کی لفتھینزا وغیرہ کو امریکا میں داخلے کے حوالے سے پابندی کا شکار مسافروں کو منتقل کرنے کی اجازت مل گئی۔ یہ اجازات امریکی ادارہ برائے کسٹم اور سرحدی تحفظ کی ہدایات کی بنیاد پر ملی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر وفاقی عدالت کے جج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ٹوئیٹ میں کہا کہ " یہ وہ نام نہاد جج ہے جو دہشت گردوں کے سامنے ملک کے دروازے کھول رہا ہے۔ اس سے شرپسندوں کو انتہائی مسرت ہوگی"۔ ایک دوسری ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ " یہ جج ہمارے ملک کو اس قانون پر عمل سے محروم کر رہا ہے جو انتہائی واہیات امر ہے"۔

بعد ازاں ایک اور ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے استفسار کیا کہ " ہمارا ملک کس جانب جا رہا ہے جب ایک جج یہ کر سکتا ہو کہ قومی سلامتی کی خاطر عائد کی گئی سفر کی پابندی پر عمل کو روک دے اور جب ہر کوئی جن میں برے ارادے کے حامل بھی شامل ہیں امریکا میں بآسانی داخل ہوجائے"۔