.

ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر سے قبل جاری ویزوں پرعمل درآمد بحال

غیر ملکیوں پر پابندیوں کے بعد امریکی انتظامیہ اور عدلیہ آمنے سامنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک وفاقی عدالت کی جانب سے صدر ڈونلد ٹرمپ کے سات مسلمان ملکوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو معطل قرار دینے کے بعد امریکی انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے پابندی سے قبل جاری کردہ ویزوں پر عمل درآمد بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ حکومت نے عارضی طور پر ویزوں کے اجراء کی روک تھام کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر 13769 سے قبل جاری شدہ ویزوں پر عمل درآمد بحال کر دیا ہے۔ اگر پابندی کی زد میں آنے والے ملکوں کے باشندوں کے لیے صدر ٹرمپ کے حکم نامے سے قبل جاری کردہ ویزوں پر عمل درآمد نہیں ہوا اور وہ سفر کے لیے مفید ہیں تو انہیں منسوخ نہیں کیا جائے گا اور حاملین ویزہ ان پر سفر کرسکیں گے۔

قبل ازیں وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر پہلے سے جاری شدہ 60 ہزار ویزے منسوخ کردیے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وزارت قومی سلامتی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ہمارے قانونی ماہرین واشنگٹن کی عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی ماہرین قانون ریاست واشنگٹن کے پراسیکیوٹر کے ہاں اپیل دائر کرنے کی بھی تیاری کر رہے ہیں جس میں صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کو عدالت کی جانب سے معطل کیے جانے کا فیصلہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

ادھر امریکی محکمہ قومی سلامتی کی طرف سے جاری کردہ ایک الگ بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے پرعمل درآمد کرتے ہوئے قومی سلامتی کی وزارت نے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر پرعمل درآمد روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی کا حالیہ فیصلہ امریکا میں وجہ نزاع ہے جس پر امریکی انتظامیہ اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں۔