.

سعودی علماء کونسل کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مفتی اعظم، ریسرچ و افتاء کونسل کے چیئرمین اور سعودی عرب کے علماء بورڈ کے سربراہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے سعودی علماء کونسل کی تین نکاتی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علماء کونسل علمی، تکنیکی اور ابلاغی میدان میں اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز علماء کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کہاکہ نئی حکمت عملی سے علماء کونسل اپنے طے شدہ اہداف و مقاصد کے حصول تک پہنچنے میں کامیاب رہے گی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ علماء کونسل کو معاشرے کے تمام طبقات اور ہرعمرکے افراد سے جامع مذاکرات شروع کرنے اور عوامی طبقات سے رابطے بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ کونسل کے پروگرام میں تکنیکی پہلو سے جدت لانے کے نتیجے میں ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

اخبار ’الریاض‘ کے مطابق مفتی اعظم نے ’الریاض فورم‘ میں گفت و گو کرتے ہوئے مسلم امہ اور عرب ممالک کو درپیش چیلنجز بالخصوص داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے لاحق خطرات سے بھی خبردار کیا۔

انتہا پسندی اور افراتفری

سعودی مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا کہ فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی تشکیل کے ذریعے عرب ممالک کے قومی اور سماجی دھاروں میں فرقہ واریت کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ دشمن عرب ملکوں میں آبادیاتی تبدیلی کی مذموم سازشوں کو آگے بڑھا کر فرقہ وارانہ خانہ جنگیوں کی راہ ہموار کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں میں فروعی اختلافات قدرت کا اصول ہیں۔ کسی بھی قوم اور طبقے میں ایک ہی مسئلے پر مختلف خیالات رکھنے والے افراد پائےجاتےہیں۔ ہمارے دلوں میں دوسروں کی آراء کے احترام کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے تاکہ بات چیت اور ڈائی لاگ کا کلچر پروان چڑھ سکے۔