عصمت ریزی میں ملوث فوجی کو قتل کردیا جائے: سلفاکیر

فوجی جرائم پر عوام کا غصہ ٹھنڈہ کرنے کا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی سوڈان کے صدر سلفاکیر نے کہا ہے کہ عصمت ریزی کے جرم میں ملوث فوجی کو قتل کردیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بیان فوج کے ہاتھوں شہریوں کے خلاف جرائم کے واقعات کی روک تھام، عوام الناس کے غم وغصے کو ٹھندہ کرنے اور عالمی برادری کو یہ یقین دلانے کے لیے دیا ہے کہ جنوبی سوڈان کی حکومت ملک میں جرائم کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’یائی‘ قصبے کے دورے کے دوران سلفاکیر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو فوجی عناصر خواتین کی آبرو ریزی میں ملوث پائے گئے ہیں انہیں قتل کردیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آبرو ریزی جیسے مجرمانہ واقعات ریاست کی پالیسی ہرگز نہیں اور ایسے واقعات میں ملوث کسی بھی اہلکار کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔

صدر سلفاکیر نے کہا کہ توقع ہے کہ آرمی چیف جنرل پول مالونگ اور وزیر دفاع عصمت ریزی کے واقعات کے بارے میں پوری تفصیلات جمع کرکے مجھے آگاہ کریں گے۔ آبرو ریزی جیسے سنگین جرائم میں ملوث فوجی عناصر کو گولی مار دینا چاہیے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں جنوبی سوڈان میں آبرو ریزی سمیت دیگر جرائم کے واقعات پر انتباہ کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنوبی سوڈان میں نسلی کشیدگی اپنی انتہا پر ہے اور اس کی روک تھام نہ کی گئی اجتماعی قتل عام کا نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

جنوبی سوڈان میں سنہ 2013ء میں خانہ جنگی اس وقت ختم ہوئی تھی جب صدر سلفاکیر نے قبیلہ دنکا سے تعلق رکھنے والے اپنے نائب کو عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کے فوجی خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی میں ملوث پائے گئے ہیں مگراس طرح کے جرائم کے بہت کم واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جنوبی سوڈان کے باغی بھی شہریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوچ رہے ہیں جن میں قتل اور عصمت دری جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں