.

داعش کے ہاتھوں لڑکیاں عصمت دری کا نشانہ کس طرح بنتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں داعش تنظیم کے ہاتھوں اغوا اور عصمت دری کا نشانہ بننے والی نادیہ مراد کا تعلق یزیدی مذہب سے ہے۔ نادیہ نے انکشاف کیا ہے کہ تقریبا 6500 لڑکیاں اور خواتین ایسی ہیں جن کو اس کی طرح تنظیم کے ارکان کے ہاتھوں عذاب سے دوچار ہونا پڑا۔

اگست 2014 میں داعش تنظیم سنجار کے علاقے میں داخل ہوئی تو نادیہ کی عمر 19 برس تھی۔ نادیہ کے گاؤں پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد اسے اغوا کر کے باندی بنا لیا گیا۔ تاہم تین ماہ بعد وہ داعش کے چنگل سے نکل جانے میں کامیاب ہو گئی۔

فرار ہو کر جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہونے سے قبل نادیہ کو 12 افراد نے عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ آج وہ کئی ملکوں میں جا کر ان مصائب و مشقت سے متعلق آگاہی مہم چلا رہی ہے جن کا یزیدی خواتین کو نشانہ بننا پڑتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل اسکاٹ لینڈ کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں نادیہ نے بتایا کہ " وہ لوگ بچوں کو تربیتی کیمپوں میں لے جاتے ہیں اور دیگر بہت سوں کو قتل کر ڈالتے ہیں۔

برطانوی نیوز ویب سائٹ "ڈیلی میل آن لائن" کو دیے گئے انٹرویو میں نادیہ نے کہا کہ "ان کے سامنے ہمیں قطعا یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہم انسان ہیں یا ہماری کوئی قیمت ہے.. انہوں نے 6500 سے زیادہ لڑکیوں اور خواتین کو باندی بنایا اور انہیں مختلف مقامات پر لے گئے۔ وہ عورت کے ساتھ جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ میرا انجام یہ ہونا تھا ، میں بھی ان کا ایک شکار تھی اور انہوں نے میرے ساتھ بھی سب کچھ کیا"۔

نادیہ مراد نے داعش تنظیم کی قید میں گزرنے والے خوف ناک دنوں کی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے نو برس سے زیادہ عمر کی تمام لڑکیوں کو علاحدہ کر کے انہیں باندی بنا لیا اور پھر انہیں اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور حسب خواہش ان لڑکیوں کے ساتھ سب کچھ کیا۔ نادیہ نے بتایا کہ میں ان کے ہاتھوں بہت سے جرائم کا نشانہ بنی جن کو زبان پر لانا کسی کے لیے بھی بہت دشوار ہے۔ میں نے کم عمر لڑکیوں کو دیکھا جن کو جنسی عمل کے لیے باندی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ انہیں روزانہ زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا"۔

نادیہ نے جو اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کر چکی ہیں، بتایا کہ "داعش تنظیم کے حملے کا نشانہ بننے والے یزیدی لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ اسلام یا موت میں سے ایک چیز اختیار کر لیں جب کہ چھوٹی لڑکیوں کو جنسی عمل کے واسطے غلام بنا کر رکھا جاتا تھا"۔ نادیہ اور اس کی دو بہنوں کو غلام بنایا گیا جب کہ اس کی ماں کو بڑی عمر ہونے کے سبب موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

نادیہ مراد نے عالمی سربراہان سے مطالبہ کیا کہ مذہبی بنیاد پر جبر وستم کا نشانہ بننے والوں کی مدد کے لیے مزید کوششیں کی جائیں۔ اس نے سرحد کی نگرانی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متنازع اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نادیہ کے مطابق ٹرمپ کو ان لوگوں کے سامنے سرحد کی بندش نہیں کرنا چاہیے جن کو مدد کی ضرورت ہے۔