.

نیویارک کے ریستوران کا ٹرمپ کی پالیسی پر انوکھا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک میں ایک ریستوران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف احتجاج کا انوکھا طریقہ اپناتے ہوئے ایک پیغام کو پھیلانا شروع کر دیا جس میں مہاجرین کو امریکی عظمت کا بانی قرار دیا گیا ہے۔

بروکلن میں واقع "كيويانا" ریستوران نیوزی لینڈ کی ڈشوں کے حوالے سے معروف ہے اور اس کو ایک چوٹی کے شیف مارک سمنز چلاتے ہیں۔ ریستوران نے اپنی رسیدوں پر ایک پیغام چھاپا ہے جس کے سبب اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پیغام کی عبارت کا ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے کہ "مہاجرین امریکا کو عظیم بناتے ہیں (ان ہی لوگوں نے آپ کا آج کا کھانا تیار کیا اور آپ کو پیش کیا)"۔

اس اقدام کے بارے میں خبر اس وقت پھیلی جب "NBC" چینل کی ایک خاتون صحافی نے اتوار کے روز یہاں پر کھانا کھانے کے بعد اپنی ایک ٹوئیٹ میں ریستوران کی رسید کی تصویر پوسٹ کر ڈالی۔ اس عمل کے 48 گھنٹے بعد تصویر بڑے پیمانے پر پھیل چکی تھی اور اس کو 1 لاکھ مرتبہ ری ٹوئیٹ کیا گیا۔

نیویارک میں دیگر ریستورانوں نے بھی ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر اعتراض کیا ہے جن میں اکثر ریستوران مہاجرین کی معاونت کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔

صدارتی آرڈر میں سات مسلم ممالک کے شہریوں کے تین ماہ تک امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین کے داخلے کو چار ماہ کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وفاقی عدالت کے جج نے ایک حکم کے ذریعے اس آرڈر پر عمل درامد عارضی طور پر روک دیا ہے۔