.

امریکا کا ایران کو سبق سکھانے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ کا سلسلہ جاری ہے اور آنے والے دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے کوئی "آہنی" موقف سامنے آ سکتا ہے۔ تہران کو سبق سکھانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے متعدد اختیارات ہیں اور ان میں اکثر ابھی تک زیر غور ہیں۔

اس سلسلے میں آغاز پاسداران انقلاب سے ہو سکتا ہے جو خطے کے ممالک بالخصوص شام اور عراق میں ایرانی مداخلت کے لیے دست راست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی ذمے داران نے بدھ کے روز ایک غیر ملکی ایجنسی اور امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت "ایرانی پاسداران انقلاب" اور اس کے ساتھ "الاخوان المسلمين" تنظیم کو دہشت گرد جماعتوں میں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ وزارت خارجہ اور اس کے وزیر ریکس ٹیلرسن اس تجویز پر نظر ثانی کریں گے جب کہ وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے تین مشیر دونوں تنظیموں کو مذکورہ فہرست میں شامل کرنے پر بھرپور زور دے رہے ہیں۔ متعدد امریکی ذمے داران پاسداران انقلاب کو مشرق وسطی میں بالواسطہ طور پر جنگوں کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے مورود الزام ٹھہراتے ہیں۔

حزب اللہ ، حوثی اور عراق

اگلا اقدام ایران کے بعض دہشت گرد جماعتوں کے لیے سپورٹ کی پاداش میں تہران پر پابندیوں کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ تہران سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینے والوں میں شامل ایک اہم امریکی عہدے دار نے بتایا ہے کہ نئی انتظامیہ ایران کو امریکی مفادات کے لیے واضح ترین خطرہ شمار کرتی ہے اور وہ اس پر دباؤ کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

عہدے دار نے مزید بتایا کہ وہائٹ ہاؤس نیوکلیئر معاہدے کے چیتھڑے اڑانے کے بجائے تہران کو سزا دینے کی جانب جا سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایران کا مشرق وسطی کے ممالک میں بعض جماعتوں کو سپورٹ کرنا ہے جن میں لبنانی حزب اللہ ، یمن کی حوثی ملیشیا اور عراق میں شیعہ تنظیمیں شامل ہیں۔ تاہم امریکی عہدے دار نے پاسداران انقلاب پر پابندی کے ممکنہ برعکس نتائج سے خبردار کیا۔ اس سے ایران میں بنیاد پرستوں کی شوکت میں اضافہ ہونے کے ساتھ صدر حسن روحانی کی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس سے ان قوتوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی جن کو تہران حکومت عراق اور شام میں سپورٹ کر رہی ہے۔

صنعتوں پر پابندی

دوسری جانب باخبر ذرائع کے نزدیک امریکا کے دیگر تزویراتی اختیارات میں ان ایرانی صنعتوں پر پابندی بھی شامل ہے جو میزائل پروگرام کو جدید بنانے میں معاون ہیں۔ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے سے ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری شدید طور پر متاثر ہو سکتی ہے کیوں کہ پاسداران ایران میں بڑے کاروباری معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔