.

شامی خاتون جج کو داعش کے شہر میں منتقل کرنے کی دھمکی

خاتون جج کو بہیمانہ تشدد اور ذبح کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ہاتھوں صیدانیا جیل میں 13 ہزار قیدیوں کو پھانسی دیے جانے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اسد حکومت نے اس رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بشارالاسد کی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صیدانیا جیل میں 13 ہزار قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا کوئی ثبوت نہیں۔

قبل ازیں ایک دوسرے بیان میں شامی وزارت انصاف کا کہنا تھا کہ جج حضرات قابل احترام شخصیات ہیں۔ کسی جج کو صیدانیا جیل میں پھانسی دیے جانے کے بارے میں نہیں سنا۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ صیدانیا میں کسی جج کو پھانسی دی گئی بلکہ کہا گیا تھا کہ اس جیل میں قیدیوں کو دی گئی پھانسیوں کے بارے میں بعض ججوں کے بہ طور گواہ بیانات قلم بند کیے گئے ہیں۔

سابقہ ججوں نے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ صیدانیا جیل میں ڈالے گئے قیدیوں میں سے بڑی تعداد کو رات کی تاریکی میں پھانسی دی گئی ہے۔

ادھرشامی ذرائع ابلاغ میں ایک دوسری خبر بھی گردش میں ہے جس میں وزیر انصاف نجم الاحمد نے خاتون جج سیدرا حنفی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ان کے ایک قریبی عزیز اور رکن پارلیمنٹ جہاد شخیر کے خلاف مقدمہ واپس نہ لیا تو وہ اس کا تبادلہ داعش کے زیرقبضہ شہر ’دیر الزور‘ میں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جہاد الشخیر وزیر انصاف نجم احمد کے خالہ زاد ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے خاتون جج سیدرا حنفی کو ان کے دیگر تحقیقاتی عملے سمیت یرغمال بنایا اور اپنے بیٹے کےساتھ مل کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ شخیر نے سیدرا حنفی کو ذبح کرنے کی بھی دھمکی دی۔ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تحقیقات کے لیے درخواست دی ہے۔ اس پر وزیر انصاف اپنے قریبی عزیز کے دفاع میں کھڑے ہوگئے ہیں۔

انہوں نے حنفی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے شخیر کے خلاف دائر مقدمہ واپس نہ لیا تو وہ اس اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس کا تبادلہ داعش کے زیر قبضہ شہر دیر الزور میں کردیں گے جہاں اسے اپنی ڈیوٹی پر جانا پڑے گا۔ دیر الزور میں جانے کی صورت میں داعشی اسے گرفتار کر لیں گے۔

خیال رہے کہ خاتون جج سیدرا حنفی کو یرغمال بنائے اور اسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ 11 جنوری کو پیش آیا تھا۔ حنفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 مئی 2016ء کو ایک دوسرے کیس میں جہاد شخیر کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ سنایا تھا جس پر اس نے طیش میں آ کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اس پر سیدرا حنفی نے وزارت انصاف میں جہاد شخیر کے خلاف ایک درخواست دی تھی جس پر وزیر انصاف نجم احمد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خاتون جج کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔