.

پینٹاگون "ٹرمپ ٹاور" میں کرائے پر جگہ لینے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے بدھ کے روز اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ نیویارک کے ٹرمپ ٹاور میں کرائے پر جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ جگہ ان عسکری اہل کاروں اور ان کے سامان کے لیے مخصوص ہوگی جو امریکی صدر کے ٹرمپ ٹاور میں قیام کے دوران ان کے ساتھ ہوں گے۔

ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر نیویارک میں اپنے ٹاور آنے جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جب کہ خاتون اول ملانیا اور ان کا بیٹا بیرن دونوں پہلے ہی ٹرمپ ٹاور میں رہ رہے ہیں۔

امریکی صدر کے ساتھ چوبیس گھنٹے عسکری اہل کاروں کا ایک گروپ رہتا ہے بالخصوص اس میں نیوکلیئر کوڈز کا پیک تھامے رکھنے والے اہل کار بھی شامل ہیں جن کے ذریعے صدر چند لمحوں کے اندر نیوکلیئر حملے کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

پینٹاگون کی یہ کوشش ٹرمپ کی پراپرٹی کی دنیا میں بادشاہت سے متعلق مفادات کے ساتھ متصادم نظر آتی ہے۔

ٹرمپ نے کرسی صدارت سنبھالنے پر ایک فنڈ قائم کر دیا تھا جس میں ان کے تمام اثاثے اور حصص شامل ہیں اور اس کے انتظامی امور اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے کر دیے تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان جیمس بریٹ ڈل کے مطابق سرکاری طور پر اہم تقاضوں کے پیش نظر وزارت دفاع قانونی حدود میں رہتے ہوئے ٹرمپ ٹاور میں ایک معینہ جگہ کرائے پر لینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ جگہ صدر کے عمارت میں قیام کے دوران ان کی معاونت کرنے والوں اور ان کے سامان کے لیے ضروری ہے۔

امریکی نیوز چینل "CNN" کے مطابق ٹرمپ ٹاور میں ایک پوری منزل کو کرائے پر لینے کے سالانہ اخراجات تقریبا 15 لاکھ امریکی ڈالر ہوں گے۔