.

چھ ماہ میں الرقہ کو ’موصل‘سے جدا کردیں گے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی شام اور عراق میں داعش کے مراکز کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے پلان بنا رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ شام میں داعش کے گڑھ الرقہ کو عراق کے موصل شہر سے چھ ماہ کے اندر اندر الگ تھلگ کردیا جائے گا۔ اس طرح الرقہ سے داعش کو نکال باہر کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی اتحادی فوج کے ترجمان کرنل جون ڈوریان نے بغداد میں ایک بیان میں کہا کہ توقع ہے کہ پیش آئند چند ہفتوں کے اندر اندر الرقہ اور موصل کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کردیا جائے گا۔ اس کے بعد الرقہ پر حملے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الرقہ اور موصل کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں چھ ماہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ نے امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل اسٹیفن ٹاؤنسنڈ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ الرقہ پر فیصلہ کن حملے کے لیے موصل اور الرقہ کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنا ضروری ہے اور یہ ہدف چھ ماہ کے اندر اندر پورا کرلیا جائے گا۔

اسی سیاق میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کے حمایت یافتہ شامی جنگجو اس وقت شام کے الباب شہر میں داخل ہوچکے ہیں وہ جلد ہی الرقہ میں داعش کے مرکز پرحملہ آور ہوں گے۔