کیا ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی رپورٹس میں ایران کی جانب سے ایک اور میزائل تجربے کا دعویٰ کیا گیا ہے، مگر دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے شمالی شہر جیلان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دوسرے میزائل تجربے سے متعلق امریکی رپورٹس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میزائل تجربےسے متعلق امریکی میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہیں ایران سے امریکی خوف کا اظہار ہے۔

بدھ کو امریکی ٹی وی ’فاکس نیوز‘ نے ایک خبر نشر کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ جمعرات کے روز امریکی میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ بدھ کے روز بیلسٹک میزائل کا تجربہ تو نہیں کیا گیا تاہم زمین سے فضاء میں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے امریکی پابندیوں کے جواب میں میزائل تجربات جاری رکھنے کی دھمکی دی تھی مگر پہلی بار ایران کی جانب سے اعلانیہ میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے ایران کی امریکی پابندیوں کے بعد تبدیل ہوتی پالیسی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ جب سے امریکی حکومت نے کئی ایرانی شخصیات اور اداروں کوبلیک لسٹ کیا ہے ایران کی دھمکیوں اور بیان بازی کی ’ٹیون‘ بھی تبدیل ہوگئی ہے۔

ایرانی وزیر دفاع حسین دھقان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دوسرے میزائل تجربے کی باتیں بے بنیاد ہیں اور دشمن کے ایران فوبیا کا حصہ ہیں۔

ایرانی وزیر دفاع نے سپریم لیڈر کے اس بیان کو دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی دھمکیوں کا جواب ایرانی عوام جمعہ کے روز اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر دیں گے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای عمونا سخت بیان بازی میں مشہور ہیں مگر حال ہی میں انہوں نے جو خطاب کیا ہے اس میں امریکا کے حوالے سے وہ شدت نہیں تھی جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ حالانکہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرنپ نے دھمکی دی تھی کہ امریکا کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل تجرباتی علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور امریکا علاقائی سلامتی اور اتحادیوں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی بھی اقدام کرسکتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں موجودہ امریکی صدر کے بجائے سابق صدرباراک اوباما کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا فیصلہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہوگیا تھا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہ ٹرمپ نے دنیا کے سامنے امریکا کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر امریکی سربراہان کو سخت ترین الفاظ میں مخاطب کرتے رہتے ہیں مگر اس بار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ایرانی بیان بازی میں وہ شدت، سختی اور لہجے کی کرختگی نہیں پائی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں