.

ترکی : 16 اپریل کو دستوری ریفرینڈم کے انعقاد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے انتخابی بورڈ نے دستوری ترامیم کی منظوری کے لیے 16 اپریل کو عوامی ریفرینڈم کے انعقاد کی تصدیق کردی ہے۔ان ترامیم کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن کو مزید اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

ترکی کے اعلیٰ انتخابی بورڈ کے سربراہ سعدی غووین نے ہفتے کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ قانون کی سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد ریفرینڈم کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

صدر طیب ایردوآن نے جمعے کو اس قانون پر دستخط کیے تھے۔سعد غووین نے کہا کہ عوامی ریفرینڈم کے لیے دو رنگ ۔۔۔۔۔۔۔سفید اور بھورا۔۔۔۔۔۔ استعمال کیے جائیں گے۔سفید ''ہاں'' اور بھورا ''ناں'' کا نمائندہ ہوگا۔

ریفرینڈم میں اٹھارہ دفعات پر مشتمل نئے آئین کی منظوری کی صورت میں جدید ترکی میں پہلی مرتبہ انتظامی صدارتی نظام رائج ہوجائے گا۔اس کے تحت صدر فرامین جاری کرنے کے مجاز ہوجائیں گے، وہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان اور وزراء اور اعلیٰ ریاستی عہدہ داروں کا تقرر کرسکیں گے۔

اگر ترک عوام کثرت رائے سے دستوری ترامیم کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو وزیراعظم کا عہدہ ختم کردیا جائے گا اور نئے نظام کے نفاذ کے بعد رجب طیب ایردوآن 2029ء تک ملک کے صدر رہ سکتے ہیں۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ زیادہ موثر قیادت کے لیے دور رس نتائج کی حامل یہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں لیکن ان دستوری ترامیم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ترکی میں شخصی حکمرانی کا نظام قائم ہوجائے گا۔