.

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں مسلح جھڑپ میں 8 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں علاحدگی پسند حریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان اتوار کے روز مسلح جھڑپ میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ جھڑپ کشمیر کے جنوب میں واقع ایک گاؤں میں ہوئی ہے۔بھارتی فوج اور پولیس نے مبینہ علاحدگی پسندوں کے موجود ہونے کی اطلاع پر اس گاؤں کا محاصرہ کر لیا تھا۔اس کے بعد ان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

سری نگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل منیش نے دعویٰ کیا ہے کہ ''جھڑپ میں چار دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے اور مقابلے کی جگہ سے چار ہتھیار برآمد ہوئے ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ جھڑپ میں دو فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران دو شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں ایک اس مکان کے مالک کا بیٹا ہے جہاں مشتبہ علاحدگی پسندوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کے بعد بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں پچیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں بارہ افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔تین مشتبہ علاحدگی پسند بھارتی فورسز کا محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ علاقے میں امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ وادیِ کشمیر میں سرکردہ حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ایک نوجوان کمانڈر برہان وانی کے 8جولائی 2016ء کو ماورائے عدالت قتل کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے اور کشمیریوں کی آئے دن بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ان میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

بھارتی فورسز نے کشمیریوں کی اس نئی احتجاجی تحریک پر قابو پانے کے لیے شاٹ گن کے ذریعے پیلٹ گولیوں کا مظاہرین کے خلاف بے دریغ استعمال کیا ہے جس سے سیکڑوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ان میں بیشتر جزوی یامکمل طور پر بینائی کھو چکے ہیں۔وادی کشمیر میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اسلحے کے اس وحشیانہ استعمال پر بھارت کی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔